10 ارب ہرجانہ کیس، عمران خان کے وکیل کی وزیراعظم سے ویڈیو لنک پر جرح
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ پر سوال ، وزیر اعظم کے وکیل کا اعتراض
آئندہ سماعت پر وزیر اعظم پر مزید جرح ہو گی،سماعت 24 مئی تک ملتوی
10ارب ہرجانہ کیس میں عمران خان کے وکیل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ویڈیو لنک پر جرح کی، جس کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی۔سیشن کورٹ لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے ۔دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی کی طرف سے ایڈووکیٹ میاں محمد حسین نے وزیر اعظم سے جرح کی۔ شہباز شریف نے اپنے بیان پر جرح کے لیے عدالت میں ویڈیو لنک پر حلف لیا، جس میں انہوں نے کہا کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ اگر کوئی چیز چھپاؤں تو اللہ مجھ سے ناراض ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے اپنے بھائی کے ذریعے 10 ارب رشوت کی پیشکش کی۔ جس وقت پیشکش کی گئی تب عباس شریف انتقال کر گئے تھے اور ہم صرف 2 بھائی ہی حیات تھے ۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بھائی کے ذریعے آفر کرنے کے وقت تو صرف شہباز شریف اور نواز شریف ہی حیات تھے ۔ یہ درست ہے کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کسی رشتے دار کے نام کا بھی ذکر نہیں کیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ غلط ہے کہ جسٹس ملک قیوم، جسٹس احسان چودھری اور شہباز شریف کے درمیان کوئی آڈیو ریکارڈنگ میڈیا پر موجود ہے ۔سماعت کے دوران جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت سوال پوچھنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل مصطفی رمدے نے اعتراض کیا اور کہا کہ جسٹس ملک قیوم کی شہباز شریف کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت سوال ا سکینڈلائز کرنے کا اقدام ہے ۔ جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت شہباز شریف کوئی بیان دینے کے پابند نہیں ہیں۔بعد ازاں عدالت ے کیس کی سماعت 24 مئی تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر وزیر اعظم شہباز شریف پر مزید جرح ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جسٹس ملک قیوم کی اعظم شہباز شریف بانی پی ٹی آئی شہباز شریف کے ویڈیو لنک کے وکیل کہا کہ
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔