جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ پر سوال ، وزیر اعظم کے وکیل کا اعتراض
آئندہ سماعت پر وزیر اعظم پر مزید جرح ہو گی،سماعت 24 مئی تک ملتوی

10ارب ہرجانہ کیس میں عمران خان کے وکیل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ویڈیو لنک پر جرح کی، جس کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی۔سیشن کورٹ لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے ۔دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی کی طرف سے ایڈووکیٹ میاں محمد حسین نے وزیر اعظم سے جرح کی۔ شہباز شریف نے اپنے بیان پر جرح کے لیے عدالت میں ویڈیو لنک پر حلف لیا، جس میں انہوں نے کہا کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ اگر کوئی چیز چھپاؤں تو اللہ مجھ سے ناراض ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے اپنے بھائی کے ذریعے 10 ارب رشوت کی پیشکش کی۔ جس وقت پیشکش کی گئی تب عباس شریف انتقال کر گئے تھے اور ہم صرف 2 بھائی ہی حیات تھے ۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بھائی کے ذریعے آفر کرنے کے وقت تو صرف شہباز شریف اور نواز شریف ہی حیات تھے ۔ یہ درست ہے کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کسی رشتے دار کے نام کا بھی ذکر نہیں کیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ غلط ہے کہ جسٹس ملک قیوم، جسٹس احسان چودھری اور شہباز شریف کے درمیان کوئی آڈیو ریکارڈنگ میڈیا پر موجود ہے ۔سماعت کے دوران جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت سوال پوچھنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل مصطفی رمدے نے اعتراض کیا اور کہا کہ جسٹس ملک قیوم کی شہباز شریف کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت سوال ا سکینڈلائز کرنے کا اقدام ہے ۔ جسٹس ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ کی بابت شہباز شریف کوئی بیان دینے کے پابند نہیں ہیں۔بعد ازاں عدالت ے کیس کی سماعت 24 مئی تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر وزیر اعظم شہباز شریف پر مزید جرح ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جسٹس ملک قیوم کی اعظم شہباز شریف بانی پی ٹی آئی شہباز شریف کے ویڈیو لنک کے وکیل کہا کہ

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ