پاکستان کا پانی روکنے کے لیے بھارت کے نئے منصوبے، رنبیر کینال میں توسیع پر غور
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات اور منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔
روئٹرز کی خبر کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دریائے چناب، دریائے جہلم اور دریائے سندھ پر نئے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی رو سے یہ 3 دریائے پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ہٹ دھرمی برقرار، جے شنکر کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر اصرار
ان منصوبوں میں سے ایک رنبیر کینال کی توسیع بھی شامل ہے جسے 60 کلومیٹر سے بڑھاکر 120 کلومیٹر کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کینال کی توسیع سے بھارت دریائے چناب سے موجودہ 40 کیوبک میٹر کے بجائے 150 کیوبک میٹر پانی نکال سکے گا۔
خبر کے مطابق اس منصوبے پر بحث دونوں ممالک میں 10 مئی کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارتی قیادت کا ہدف سندھ طاس معاہدہ تھا، طلال چوہدری
نریندر مودی نے جنگ بندی کے بعد قوم سے خطاب میں بھی کہا تھا، ‘پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے صرف دہشتگردی اور مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا۔ ان کی تقریر میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبی منصوبہ پہلگام حملہ سندھ طاس معاہدہ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام حملہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔