Express News:
2026-07-24@08:28:00 GMT

بھارتی قیادت امن کی راہ اپنائے

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

پاکستان میں آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر جمعے کو یومِ تشکر بھرپور قومی جذبے، والہانہ عقیدت اور وطن سے غیرمتزلزل وفاداری کے ساتھ منایا گیا۔ وفاقی دارالحکومت، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ وزیر اعظم ہاؤس میں پرچم کشائی کی تقریب ہوئی، وزیراعظم شہبازشریف نے قومی پرچم لہرایا، انھوں نے اسلام آباد میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار فتح پر یوم تشکر کی خصوصی تقریب سے خطاب کیا۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اس خصوصی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ دشمن کے خلاف ہم نے جنگ جیت لی ہے، فتح کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔ ہم نے اپنے دشمن کو سبق سکھا دیا ہے، وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ ہی رہنا ہے، جنگوں سے سبق یہی ملا ہے کہ ہم پرامن ہمسایوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں، جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسائل حل ہوجائیں تو پھر اس کے بعد ہم تجارت پر بات کرسکتے ہیں، انسداد دہشت گردی کے میدان میں بھی تعاون کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے امن اور مذاکرات کی بات کر کے بھارت کی قیادت کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی امن کی بات کا جواب امن کی صورت میں دے۔ بلاشبہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے ہمسایوں کے درمیان اگر کبھی اختلافات ہو جائیں تو اسے حل کرنے کا بہترین طریقہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گلے شکوے دور کرنا ہے اور اس حل کے سوا کوئی اور راستہ اختیار کرنا نقصان کا باعث ہی ہو گا۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگیں مسئلے یا تنازعات حل نہیں کرتیں بلکہ ان تنازعات کو پہلے سے بھی زیادہ سنگین اور گہرا کر دیتی ہیں۔ آج کی دنیا کا بہترین سبق یہی ہے کہ جنگ سے بچنا ہی درحقیقت ذہانت اور بہترین حکمت عملی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بلاشبہ حالیہ جنگ دونوں ملکوں کے لیے بہتر نہیں لیکن ممکن ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے لیے خیرمستور ہی ثابت ہو جائے اور اس میں سے مذاکرات کی راہ نکل آئے اور دونوں ملک اس قابل ہو جائیں کہ وہ اپنے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیں۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے یوم تشکر کی خصوصی تقریب سے خطاب کے دوران واضح کیا کہ آج پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج وقت آگیا ہے کہ اس سفر کا آغاز کردیں جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔اب ہمیں معاشی میدان میں محنت کرنا ہے، اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل اور شاندار اذہان سے نوازا ہے، اگر ہم پرعزم ہوجائیں تو پاکستان ان شاء اللہ دنیا کی دوڑ میں بہت جلد آگے نکل جائے گا۔

وزیراعظم پاکستان نے ان غیرملکی سفیروں کا شکریہ ادا کیا جو پاکستان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے رہے اور ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے جنگ بندی کی صورت میں اس خطے میں امن کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرأتمندانہ لیڈرشپ اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کے ان کے ویژن پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے اس خطے میں ہولناک جنگ کا خطرہ ٹل گیا، خدانخواستہ اگر جنگ بڑھ جاتی اور ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جاتی تو تصور کیجیے کہ ایک ارب 60 کروڑ لوگوں میں سے کون یہ بتانے کے لیے زندہ بچتا کہ کیا ہوا تھا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ملک ہے جس نے 90 ہزار جانیں قربان کی ہیں، اس میں ہمیں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، کس قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ اگر ہماری افواج اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا مقابلہ نہ کررہی ہوتیں تو یہ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل چکے ہوتے، چنانچہ دنیا کو پاکستان کی قربانیوں اور نقصانات کو تسلیم کرنا چاہیے۔

وزیراعظم پاکستان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، بھارتی قیادت اور اقوام عالم کو اس پر غور وفکر کرنا چاہیے۔ دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مائنڈسیٹ پاور کے اصول کے سوا کوئی اور اصول نہیں سمجھتا۔ وہ خود بھی بندوق اور ہتھیار کی زبان استعمال کر کے ملکوں، قوموں اور قبائل کو خوف زدہ کر کے زیرنگیں لا کر ان کے وسائل اپنی مرضی اور مائنڈسیٹ کے مطابق استعمال کرتا ہے اور اپنے زیرقبضہ لوگوں کو چلانے پر یقین رکھتا ہے۔

جمہوریت، مساوات، انسانی حقوق، معاشی مساوات اور پرامن بقائے باہمی جیسے اصول انتہاپسند مائنڈسیٹ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ پاکستان دہائیوں سے اس مائنڈسیٹ اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کس قدر خطرناک دشمن سے برسرپیکار ہیں۔ اقوام عالم کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے اور بھارت کو خصوصاً اس پہلو کو سامنے رکھ کر پاکستان کے ساتھ معاملات کرنے چاہئیں۔ اب ایسی اطلاعات آ رہی ہیں جن میں بتایا جا رہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کے لیے دریائے چناب پر نہر کی توسیع اور دریائے جہلم اور دریائے سندھ پر نئے آبی زخیروں کی تعمیر کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جنگ بندی پر اتفاق رائے کے باوجود بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ تاحال معطل ہے بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حکام کو دریائے چناب، جہلم اورسندھ پر پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب، جہلم اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان استعمال کرتا ہے۔ اب جو باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ بھارت دریائے چناب سے نکلنے والی رنبیر نہر کی لمبائی کو دگنا کر کے 120 کلومیٹر تک بڑھاناچاہتا ہے ، یہ نہر انیسویں صدی میں معاہدے پر دستخط ہونے سے قبل تعمیر کی گئی تھی ۔ بھارت کو دریائے چناب سے محدود مقدار میں پانی نکالنے کی اجازت ہے اور وہ بھی صرف آبپاشی کے لیے۔ اگر بھارت اس نہر کی لمبائی بڑھاتا ہے تو ظاہر ہے کہ پانی کی مقدار میں بھی اضافہ ہو گا جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے 80 فیصد نظام آبپاشی اورتقریباً تمام ہائیڈرو پاور منصوبوں کا انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے آبی تحفظ کے ماہر ڈیوڈ مشیل نے کہا کہ دہلی کی جانب سے کوئی بھی ڈیم، نہریں یا دیگر انفرااسٹرکچر تعمیر کرنے کی کوشش، جس سے دریائے سندھ پر بھارت کی طرف پانی کے بہاؤ کو روکا یا موڑا جائے،کی تعمیر میں برسوں درکار ہیں، مئی کے اوائل میں پاکستان میں دریائی نظام سے آنے والے پانی کی سطح اس وقت عارضی طور پر 90 فیصد تک گر گئی تھی جب بھارت نے دریائے سندھ پر تعمیر کردہ بعض پروجیکٹس کا مرمتی کام شروع کیا تھا۔

رائٹرز نے دو سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے متعلقہ پانچ افراد کا مؤقف لیا ،جن کا کہنا تھا کہ نہر رنبیر کو وسعت دینے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ، بھارت ان منصوبوں پر بھی غور کر رہا ہے جن سے ممکنہ طور پر پاکستان کے لیے مختص کردہ دریاؤں سے پاکستان میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا۔دہلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے۔

وزارتِ بجلی کی دستاویز کے مطابق بھارت نے کم از کم پانچ ڈیموں کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی بھی کرلی ہے جن میں سے چار دریائے چناب اور ایک دریائے جہلم کے معاون دریا پر بنایا جائے گا۔ پہلگام واقعہ کے بعد تیار کی جانے والی وزارت بجلی کی دستاویز کے مطابق آبپاشی کے منصوبوں پر کام کرنے والے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم کا پانی شمالی ہندوستان کی تین ریاستوں میں ممکنہ طور پر دریاؤں میں تقسیم کیا جائے۔ ادھر پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کئی بین الاقوامی فورمز، بشمول ورلڈ بینک،مستقل ثالثی کی عدالت یا بین الاقوامی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

بھارت کے اس قسم کے اقدامات اس خطے کے حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ بھارتی قیادت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی جانب مذاکرات کا ہاتھ بڑھائے۔ دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تمام مسائل حل کرنے کی قابلیت اور اہلیت رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کا یہ بہترین موقع ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دریائے سندھ پر دریائے چناب پاکستان نے مذاکرات کی پاکستان کے بھارت کی کے مطابق کے ساتھ ہے اور کے لیے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا