بھارتی وزیراعظم کے ایٹمی دھمکیوں اور جھکنے سے انکار کے بیان پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ انڈیا ’ایٹمی دھمکیوں کے آگے جھکنے والا نہیں ہے جس پر پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ " ہم کسی کو بلیک میل نہیں کرتے، مودی کو خواب میں بھی پاکستان اور پاکستانی افواج نظر آتی ہیں، وہ بنیادی طور پر اپنے ووٹرز کو مطمئن کر رہے ہیں۔ یادرہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا کہ ہماری ایٹمی طاقت جارحانہ سوچ نہیں بلکہ انڈیا کی جوہری جارحیت کے توازن کے لیے ہے"۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف کاکہناتھاکہ ہم کسی کو بلیک میل نہیں کرتے، نیوکلیئر صلاحیت ہمارے دفاع کی ضمانت ہے، پاکستان کے اثاثے پاکستان کے دفاع کے لیے ہیں،پاکستان نے اپنے دفاع میں جنگ لڑی اور جیتی، نریندر مودی کے لیے دوسری جنگ بھارت کے اندر نظر آرہی ہے، بھارتی شہری خود کہہ رہے ہیں کہ نریندر مودی کا رویہ ایسا تھا کہ جنگ تک نوبت آگئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نریندر مودی پر کانگریس سمیت چھوٹی ریاستوں میں بھی شہری اب تنقید کر رہے ہیں، بھارتی وزیراعظم ایسے بیانات دے کر اپنے گھر میں اٹھنے والے طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں،مودی جانے ان کے اپنے گھر کے سیاسی افراد جانیں، پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیتیں اپنے دفاع میں ہیں کسی کو اس سے خطرہ نہیں ہوسکتا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کی اپوزیشن نریندر مودی کی ناکامیوں کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہے، بھارتی اپوزیشن کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنا مقام بنا سکے، نریندر مودی کی قیادت نے بھارت کو اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچایا، بھارت نے جس طرح دہشتگردی کی پشت پناہی کی اس سے اسے بین الاقوامی سطح پر بھی ناکامی ہوئی۔ کینیڈا اور پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات نریندر مودی نے کرائے،مودی کے چہرے پر دہشت گردی کا دھبہ لگ چکا ہے۔
نورالامین مینگل کیلیے شاندار خدمات پر ستارۂ امتیاز
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔