مودی کو بھارتیوں کے موٹاپے کی فکر ستانے لگی، کوکنگ آئل کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی موٹاپے کی بیماری ستانے لگی۔
بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ آنے والے سالوں میں موٹاپا ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، اگر ہر خاندان صرف 10 فیصد خوردنی تیل کا استعمال کم کر دے تو قوم کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نیوٹریشنسٹ ایک طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ تیل میں تلی ہوئی غذائیں اور فاسٹ فوڈز کا بہت زیادہ استعمال عوام میں موٹاپے، کولیسٹرول اور دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
نریندر مودی نے اپنی قوم پر زور دیا کہ وہ کھانا پکانے کے لیے روایتی طریقے استعمال کریں جس میں تیل کا کم سے کم استعمال ہوتا ہے جیسے روسٹنگ اور بوائلنگ۔
یہی نہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے ورزش کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنانے، چہل قدمی کرنے، یوگا کرنے، سائیکل چلانے اور گھر پر ورک آؤٹ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
اس کے علاوہ بھارتی وزیراعظم نے عوام کو مشودہ دیا کہ اپنی غذاؤں میں دلیے، دالوں، سبزیوں اور موسمی پھلوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔
مودی کو بھارتیوں کے موٹاپے کی فکر کیوں ہونے لگی؟
بھارت کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 21-2019 کے مطابق ملک میں 24 فیصد خواتین اور 23 فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں، جو 16-2015 میں بالترتیب 20 اعشاریہ 7 اور 18 اعشاریہ 6 فیصد تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں موٹاپے کے مسائل زیادہ ہیں لیکن دیہی علاقے بھی تیزی سے تبدیل ہوتے لائف اسٹائل سے متاثر ہو رہے ہیں اور وہاں بھی کیلوریز کا استمعال بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی 2023 کی اسٹڈی کے مطابق ملک میں 101 ملین شہری ذیابیطس کا شکار ہیں جبکہ 1360 ملین افراد موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس کا شکار ہونے کے قریب ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں