جاویر اختر جہنم میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟ وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
معروف گیت نگار جاوید اختر نے ممبئی میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت کی کتاب نارکتلا سوارگ (دلدل میں جنت) کے اجرا کے موقع پر اپنے تبصرے سے میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’پاکستان میں لڈیاں ڈالتے ہیں اور بھارت جاکر نفرت پھیلاتے ہیں‘، بشریٰ انصاری کی جاوید اختر پر تنقید
گیت نگار نے تقریب میں موجود شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں کس طرح برسوں سے لوگوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف (بھارت اور پاکستان)کے لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں۔
جاوید اختر نے کہا کہ میں بہت ناشکرا ہوں گا اگر میں یہ تسلیم نہ کروں کہ لوگ میری تعریف بھی کرتے ہیں اور حوصلہ افزائی بھی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس طرف کے انتہا پسند بھی مجھے گالی دیتے ہیں، اور اس طرف کے انتہا پسند بھی مجھے بُرا کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی شکست کے بعد جاوید اختر بھی محتاط، پاکستان سے متعلق بات کرنے سے انکار
ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں فریقوں میں سے اگر کوئی بھی مجھے گالی دینا بند کر دے تو میں پریشان ہونے لگوں گا کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔
انہوں چُبھتے ہوئے لہجے میں کہا ایک فریق مجھے کافر کہہ کر جہنم کی نوید سناتا ہے تو دوسرا فریق مجھ پر ’جہادی‘ ہونے کی بھپتی کستا اور مجھے پاکستان جانے کا مشورہ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میرے پاس پاکستان یا جہنم میں سے کسی ایک میں جانے کا اختیار ہو تو میں جہنم میں جانا پسند کروں گا۔
واضح رہے کہ اس تقریب میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، این سی پی (شارد پوار دھڑے) کے سربراہ شرد پوار اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان جاوید اختر جہنم شیوسینا ممبئی نارکتلا سوارگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان جاوید اختر شیوسینا جاوید اختر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔