بھارت پانی روکنے کی ہمت نہیں کرسکتا، اگر ایسا ہوا تو دہائیوں تک نتائج محسوس ہوں گے، ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل شعبہ تعلقات عامہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دریائے سندھ کا پانی روگا گیا تو دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے، کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو نتائج دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کیے گئے تودنیا دیکھے گی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج پیشہ ورہیں، ہم اپنے کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور سیاسی حکومت کی ہدایات حرف بہ حرف مانتے ہوئے ان کے عزم کاپاس رکھتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں تک پاک آرمی کاتعلق ہے یہ جنگ بندی آسانی سے برقراررہے گی۔ فریقین کے درمیان رابطے میں اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم اگر خلاف ورزی ہوتی ہے توہمارا جواب ہمیشہ اورموقع پرہوگا۔
ترجمان افواج پاکستان نے مزید کہا کہ تصدیق کرسکتاہوں چھٹا گرنے والا طیارہ میراج دو ہزار ہے، ہم مزیدکارروائی کرسکتے تھے مگرہم نے ضبط کا مظاہرہ کیا اور صرف طیاروں کونشانہ بنایا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کی کشمیرپالیسی، ظلم و جبر اور اسے اندرونی معاملہ بنانے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ جب تک دونوں ممالک بیٹھ کربات نہیں کرتے تب تک مسئلہ کشمیرکی آگ بھڑکنے کاخطرہ موجود رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔