Jang News:
2026-07-24@13:21:58 GMT

صرف 35 فیصد سیاسی جماعتیں ویب سائٹس رکھتی ہیں: فافن

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

صرف 35 فیصد سیاسی جماعتیں ویب سائٹس رکھتی ہیں: فافن

—فائل فوٹو

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف 35 فیصد سیاسی جماعتیں فعال ویب سائٹس رکھتی ہیں۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کی تقریباً دوتہائی سیاسی جماعتوں کی مکمل فعال ویب سائٹس نہیں ہیں، صرف 35 فیصد سیاسی جماعتیں فعال ویب سائٹس رکھتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ویب سائٹس کا مؤثر متبادل نہیں بن سکتے۔

فافن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 166 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں صرف 58 کی ویب سائٹس مکمل یا جزوی فعال ہیں جبکہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی20 جماعتوں میں 14 کی فعال ویب سائٹس ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ پابند کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی ویب سائٹس پر مرکزی عہدیداران ارکان کی تازہ فہرستیں شائع کریں۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ فعال ویب سائٹس والی جماعتوں میں سے صرف40 نے مرکزی عہدیداران کی فہرست شائع کی ہے جبکہ 6 سیاسی جماعتوں نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان کی تفصیلات دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جماعتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر درکار 30 اقسام میں سے 18 اقسام کی معلومات موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی ویب سائٹ کے 12 پوائنٹس ہیں۔

فافن رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف 15 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پاکستان میں بند ہے، جو صرف وی پی این کے ذریعے قابلِ رسائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے 11، عوامی نیشنل پارٹی کے 9 پوائنٹس ہیں، حق دو تحریک بلوچستان اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 8 پوائنٹس ہیں۔

فافن رپورٹ کے مطابق سنی اتحاد کونسل اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے 7، تحریکِ لبیک پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے 6 ،مجلس وحدت مسلمین کے 5، بی اے پی کے 4 اور پاکستان مسلم لیگ ق کا 1پوائنٹ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پارلیمانی نمائندگی نہ رکھنے والی جماعتوں میں سب سے زیادہ اسکور پاکستان تحریک شادباد کا 13 ہے، ویب سائٹس پر سیاسی جماعتوں کی مالی شفافیت سے متعلق سب سے کم تفصیلات ہیں۔

فافن رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ شیئر کیا گیا مواد سیاسی جماعتوں کے اغراض و مقاصد ہیں، جو 88 فیصد ویب سائٹس پر ہے، 83 فیصد ویب سائٹس پر ایک پارٹی دفترکی رابطہ معلومات موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجود ویب سائٹس پر 79 فیصد نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے لنکس دیے ہیں، جماعتوں کے مرکزی عہدیداران کی فہرست 69 فیصد ویب سائٹس پر موجود ہے۔

فافن رپورٹ کے مطابق رکنیت کے طریقہ کار کی تفصیل 69 فیصد سائٹس پر موجود ہے، صرف 38 فیصد جماعتوں نے اپنی آئینی دستاویزات ویب سائٹس پر شائع کیں۔

رپورٹ کے مطابق 62 فیصد جماعتوں نے کم از کم ایک عام انتخابات کا منشور پوسٹ کیا، 12 فیصد جماعتوں نے حالیہ عام انتخابات کے لیے اپنے وعدوں کے ساتھ تازہ ترین منشور اپ لوڈ کیا۔

فافن رپورٹ کے مطابق صرف ایک جماعت نے اپنا مالیاتی گوشوارہ شائع کیا، جماعتی عہدیداران کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات بھی صرف ایک ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

رپورٹ کے مطابق کسی بھی ویب سائٹ پر پارٹی کی منتخب جنرل کونسل کی معلومات موجود نہیں، کسی بھی ویب سائٹ پر انتخابی عہدوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا طریقہ کار موجود نہیں۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق عہدیداران کے انتخاب، رکنیت، معطلی یا اخراج، مدت اور غیر ملکی فنڈنگ پر پابندی کا اعلان صرف ایک ویب سائٹ پر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہیں فافن رپورٹ فعال ویب سائٹس رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتوں سیاسی جماعتیں ویب سائٹس پر جماعتوں میں کی ویب سائٹ ویب سائٹ پر جماعتوں نے رپورٹ میں ہیں رپورٹ کہا گیا گیا کہ

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق