WE News:
2026-06-03@07:15:14 GMT

فافن نے سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس بارے رپورٹ جاری کردی

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

فافن نے سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس بارے رپورٹ جاری کردی

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس بارے رپورٹ جاری کردی ہے۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صرف 35 فیصد سیاسی جماعتیں فعال ویب سائٹس رکھتی ہیں، ملک کی تقریباً دو تہائی سیاسی جماعتوں کے پاس مکمل طور پر فعال ویب سائٹس موجود نہیں ہیں، کئی جماعتیں سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس کا مؤثر متبادل نہیں بن سکتے ۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن 2024: فافن کی تہلکہ خیز رپورٹ منظر عام پر آگئی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی جماعتیں سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں 166 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے صرف  58 جماعتوں کی ویب سائٹس مکمل یا جزوی طور پر فعال ہیں، پارلیمنٹ اور صوبائی  اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی 20 جماعتوں میں سے بھی صرف 14 کے پاس فعال ویب سائٹس ہیں ۔

 فافن کے مطابق الیکشن ایکٹ سیاسی جماعتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر مرکزی عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تازہ فہرستیں شائع کریں ، تاہم فعال ویب سائٹس رکھنے والی جماعتوں میں سے صرف 40  جماعتوں نے مرکزی عہدیداران کی فہرست شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 6 جماعتوں نے ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تفصیلات دی ہیں، جماعت اسلامی  کی ویب سائٹ پر درکار30 اقسام میں سے 18 اقسام کی معلومات موجود ہیں ،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 15 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ، پی ٹی آئی   کی ویب سائٹ پاکستان میں بند ہے ، صرف وی پی این  کے ذریعے قابل رسائی ہے۔

Political Parties Websites Assessment 2025 by nisar.

khan74 on Scribd

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (پی پی پی پی) کی ویب سائٹ کے  12 پوائنٹس ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کے 11، عوامی نیشنل پارٹی کے 9 پوائنٹس ہیں، حق دو تحریک بلوچستان اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 8 پوائنٹس ہیں، سنی اتحاد کونسل اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 7 پوائنٹس ہیں ۔

تحریک لبیک پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان  کے 6 پوائنٹس ہیں، مجلس وحدت المسلمین  کے  5، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، اور پاکستان مسلم لیگ قائد کا  1 پوائنٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات 2024 میں کس جماعت کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا؟ فافن کی رپورٹ جاری

 پارلیمانی نمائندگی نہ رکھنے والی جماعتوں میں سب سے زیادہ اسکور پاکستان تحریک شادباد  کا 13 تھا، زیادہ تر ویب سائٹس نے رابطہ معلومات اور تنظیمی تفصیلات زیادہ فراہم کی ہیں، ویب سائٹس پر مالی شفافیت  سے متعلق سب سے کم تفصیلات ہیں۔

فافن نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ شیئر کیا گیا مواد سیاسی جماعتوں کے اغراض و مقاصد تھے، جو 88 فیصد ویب سائٹس پر موجود تھے، 83 فیصد ویب سائٹس پر ایک پارٹی دفتر کی رابطہ معلومات موجود تھی،  79 فیصد نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے لنکس دیے تھے، مرکزی عہدیداران کی فہرست 69 فیصد ویب سائٹس پر موجود تھی۔

رکنیت کے طریقہ کار کی تفصیل 69 فیصد سائٹس پر موجود تھی، صرف 38 فیصد جماعتوں نے اپنی آئینی دستاویزات ویب سائٹس پر شائع کیں، 62 فیصد جماعتوں نے کم از کم ایک عام انتخابات کا  منشور پوسٹ کیا، صرف 12 فیصد نے  حالیہ عام انتخابات کے لیے اپنے وعدوں کے ساتھ تازہ ترین منشور اپلوڈ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عوام تک معلومات کی رسائی کے قانون پر کتنا عمل ہوا؟ رپورٹ جاری

روپرٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک جماعت نے اپنا مالیاتی گوشوارہ شائع کیا، جماعتی عہدیداران کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات بھی صرف ایک ویب سائٹ پر دستیاب تھیں ، کسی بھی ویب سائٹ پر پارٹی کی منتخب جنرل کونسل کی معلومات موجود نہیں تھیں۔

رپورٹ کے مطابق کسی بھی ویب سائٹ پر انتخابی عہدوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا طریقہ کار موجود نہیں تھا، عہدیداران کے انتخاب، رکنیت کی معطلی یا اخراج، مدتِ کار، اور غیر ملکی فنڈنگ پر پابندی کا اعلان صرف ایک ایک ویب سائٹ پر موجود تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پی ٹی آئی جماعت اسلامی سیاسی جماعتیں فافن مسلم لیگ ن ویب سائٹس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پی ٹی ا ئی جماعت اسلامی سیاسی جماعتیں فافن مسلم لیگ ن ویب سائٹس فعال ویب سائٹس سیاسی جماعتوں ویب سائٹس پر جماعتوں میں پوائنٹس ہیں کی ویب سائٹ ویب سائٹ پر رپورٹ جاری جماعتوں نے سوشل میڈیا کے مطابق

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے