واہگہ بارڈر پر پریڈ کے چرچے، خلیجی ممالک کے شہریوں کو بھی متاثر کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لاہور:
واہگہ بارڈر پر منعقد ہونے والی پنجاب رینجرز کی پریڈ کے چرچے خلیجی ممالک کے باشندوں کو بھی متاثر کرنے لگے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کی سیرو تفریح پر آئے سلطنت عمان کے بائیکرز نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنےکی تقریب دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو پنجاب رینجرز نے انہیں اپنا مہمان خاص بنا لیا اور واہگہ بارڈر پر سورج ڈھلتے ہی فضا نعرہ تکبیر، پاکستان زندہ باد اور جوش وجذبے سے گونج اٹھی۔
سلطنت عمان سے آئے بائیکرز کے سات رکنی وفد نے پنجاب رینجرز کی پرجوش اور دل کو گرما دینے والی پریڈ دیکھی۔
پنجاب رینجرز کے شیردل جوانوں کی للکار، گونجتی قدموں کی آواز اور سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا عزم دیکھ کر مہمانوں کے چہرے حیرت، جوش اور خوشی سے دمک اٹھے اور اسٹیڈیم کی فضائیں "پاکستان اور عمان زندہ باد" کے نعروں سے گونجتی رہیں۔
عمانی بائیکرز پاکستان کے سیاحتی دورے پر ہیں اور واہگہ بارڈر کا یہ دورہ ان کے سفر کا آخری اور یادگار دن ثابت ہوا۔
مہمان بائیکرز نے پہلی بار اس نوعیت کی سرحدی تقریب میں شرکت کی اور پنجاب رینجرز کے پریڈ کرنے کے ولولہ انگیز انداز کو قریب سے دیکھا۔
پاک-بھارت کشیدگی کے باعث اگرچہ دونوں ملکوں کے گیٹ بند رہے مگر رینجرز کے جوانوں کا ولولہ، نظم و ضبط اور حب الوطنی کا مظاہرہ کسی صورت کم نہ تھا اور رینجرز کی جانب سے عمانی وفد کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو یادگاری سوینئرز پیش کیے گئے، گروپ فوٹو اور سیلفیوں کا تبادلہ ہوا، وفد نے پاکستان کو ایک پرامن، خوبصورت اور مہمان نواز ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کی محبت اور خلوص انہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔
عمانی بائیکرز نے کہا کہ ان کا دورہ سیاحت، ثقافت اور دوستی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے اور ہم رینجرز کی پریڈ کو کبھی نہیں بھولیں گے، یہ وہ الفاظ تھے جو ان کے چہرے کی خوشی کے ساتھ جھلک رہے تھے۔
پنجاب رینجرز کی یہ جذبے سے لبریز پریڈ نہ صرف وطن عزیز کے شہریوں کو بلکہ خلیجی ممالک کے مہمانوں کو بھی متاثر کر گئی ہے، برادر اسلامی ملک سے آئے مہمان جب رینجرز کی صف بندی، پرچم کشائی اور ملی جوش سے لبریز مناظر دیکھ رہے تھے، تو یوں لگا جیسے دو ملکوں کے دل ایک دھڑکن پر ہم آہنگ ہو چکے ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واہگہ بارڈر پر رینجرز کی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔