الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
فائل فوٹو
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیاسی جماعتوں سے گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی سال 2025 کے گوشوارے 29 اگست تک جمع کروانے کا کہا ہے۔
اس حوالے سے کہا گیا کہ سالانہ آمدن اور اخراجات کی تفصیلات فراہم کی جائیں، سیاسی جماعتیں اپنے فنڈز کے ذرائع، اپنے اثاثے اور واجبات کی تفصیلات دیں۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دو دو نشستیں مل گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کے عہدے دار کے دستخط سے سرٹیفکیٹ دیا جائے کہ ممنوعہ ذرائع سے کوئی فنڈز وصول نہیں کیے، سرٹیفکیٹ دیا جائے کہ سیاسی جماعت کی مالی صورتحال کی درست تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کی تفصیلات
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔