چوہدری نثار کی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا امکان نہیں، قریبی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس وقت اُن کی کسی بھی سیاسی جماعت سے ملاقات یا شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق، چوہدری نثار نے تاحال اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ آئندہ ہفتے میڈیا سے گفتگو کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد چوہدری نثار کی نواز شریف کے خلاف پرانی ویڈیو وائرل
قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت سے رابطے میں نہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی جماعت میں شمولیت کے لیے کوئی پیش رفت کی گئی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار اپنی آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی اور لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں، اور وہ مناسب وقت پر قوم کو آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ چوہدری نثار طویل عرصے سے سیاسی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم حالیہ سیاسی سرگرمیوں میں ان کا ممکنہ کردار ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔
طویل عرصے سے سیاسی منظرنامے سے غائب رہنے والے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی ہے جس کے بعد سیاسی قیاس آرائیوں نے جنم لیا کہ شاید چوہدری نثار کو دوبارہ مسلم لیگ ن میں واپسی کی دعوت دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کی چوہدری نثار سے اہم ملاقات، سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال
اس موقع پر وزیراعظم نے ہنستے ہوئے کہا ’چوہدری صاحب! آپ تو ہمیں بھول ہی گئے ہیں‘، جس پر چوہدری نثار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، نہیں میاں صاحب! بس طبیعت کچھ عرصے سے ناساز رہی ہے۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چوہدری نثار کو مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی دعوت دی جائے گی، تاہم حتمی فیصلہ چوہدری نثار علی خود کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے سے ٹیلیفونک رابطے بھی موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چوہدری نثار علی خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چوہدری نثار علی خان چوہدری نثار علی خان شہباز شریف
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔