وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی متعدد بار پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم نے ایک ماہ میں 3 مرتبہ پی ٹی آئی کو کہا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، تاہم پی ٹی آئی مسلسل مذاکرات سے انکاری رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت گرانے کے بارے میں قطعی طور پر غور نہیں ہو رہا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے آنے والے دنوں میں احتجاج کی کال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی پرامن احتجاج کرے گی تو احتجاج ان کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی متعدد بار پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم نے ایک ماہ میں 3 مرتبہ پی ٹی آئی کو کہا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، تاہم پی ٹی آئی مسلسل مذاکرات سے انکاری رہی ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو کہا کہ سیاسی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مذاکرات جب بھی ہونے ہیں، وہ سیاسی حکومت، سیاسی جماعت اور قیادت کے درمیان ہونے ہیں، اگر سیاسی مسائل کا حل نکلنا ہے تو وہ سیاسی قیادت سے بات چیت کے ذریعے ہی نکلنا ہے۔

انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سنہ 2018ء میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئی تھی، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کو دوبارہ کندھوں پر اٹھا کر اقتدار دے، پی ٹی آئی کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ نو مئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی صوبائی حکومتیں نہ توڑتی تو شاید 9 مئی بھی نہ ہوتا، ان کا رویہ جمہوری نہیں، پی ٹی آئی جمہوریت کو ڈائیلاگ سے نہیں ڈیڈلاک سے چلانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف گاڑی کے دو پہیے ہیں، پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ایک ہی پہیے پر گاڑی چلانے کی کوشش کی، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو کہا کہ آپ بھلے میرے پاس نہ آئیں، سپیکر چیمبر میں بات کرلیں میں وہاں آجاؤں گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں موجود تھا، اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت گرانے کی کسی نے بات نہیں کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کو کہا کہ نے پی ٹی ا ئی کو نے کہا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن