Express News:
2026-07-24@05:48:30 GMT

پاک بھارت تعلقات کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

وقت کے ساتھ حالیہ پاک بھارت جنگ کی حقیقت کھلتی جا رہی ہے اور سچ سامنے آرہا ہے۔ اس جنگ کا سب سے نمایاں پہلو فضائیہ کا بہادرانہ کردار ہے ۔ جدید جنگوں میں کسی ملک کی فضائی برتری ہی فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے۔

بھارتی جنگی ماہر پاروین سوہنی پاکستان کی فضائی برتری کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو 44 چینی سیٹلائٹ کی کہکشاں میسر تھی جس سے سارا جنگی تھیٹر اپنی جزئیات سمیت دکھائی دیتا ہے اور اس الیکٹرانک وار فیئر سے پاکستان نے ہماری تمام وارمشینری کے سگنل جام کردیے حتیٰ کہ پاکستان ہمارے سارے جنگی پیغامات بھی سن رہا تھا۔

 یعنی بھارتی فوج کو اس طرح سے اندھا اور گونگا کردیا گیا تھا۔ بھارتی جنگی ماہرین کی رائے کے مطابق پاکستان کی موجودہ جنگی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے لیے 10سال کی تیاری کی ضرورت ہے بلاشبہ پاکستان کو اس جنگ میں چین کی ٹیکنالوجیکل مدد حاصل تھی ۔

اس کے لیے ہم چین کا جتنا بھی شکریہ اداکریں کم ہے ۔ پاکستان بھارت سے میڈیا وار میں بھی جیتا ہے بھارتی میڈیا کے جنگی جنون نے ان کی عقل سلب کردی تھی۔ لاہور میں تباہی بتائی جا رہی تھی ، کراچی پورٹ کو تباہ کرنے کا بتایا جا رہا تھا ، اسلام آباد پر قبضے کی خرافات وغیرہ کی خبریں چلائی جارہی تھیں ۔اب بھارتی ٹی وی چینل ، بھارتی عوام سے اس فیک نیوز کی معافیاں مانگ رہے ہیں ۔ بھارت کو اس جنگ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کا بھرم ٹوٹ گیا ہے ۔ عالمی طاقت تو کیا بنتا اپنے خطے میں ہی دنیا کی نظروں میں رُسوا ہو کر رہ گیا۔

مودی جو بھارتی جنونیوں کی نظروں میں سیاستدان سے زیادہ ایک اوتار کی شکل اختیار کر چکا تھا جب کہ ان کا اپنے بارے میں بھی یہی خیال تھا۔ اب ان کا امیج ایک ایسے ناکام سیاستدان کا بن گیا ہے جس نے بھارت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ اندازہ کریں کہ بھارتی انتخابات کو ابھی بمشکل اس مئی میں ایک سال ہی ہوا ہے کہ ان کو پاکستان سے جنگ میں اتنی بڑی ہزیمت اُٹھانا پڑی ۔

پہلی شرمناک ہزیمت تو انھیں انتخابات میں چار سو پار کے ہندسے کا ٹارگٹ حاصل نہ کرنے پر اٹھانی پڑی ۔ جس کے بارے میں مودی سمیت پوری دنیا کو یقین تھا کہ وہ یہ کامیابی بڑی آسانی سے حاصل کر لیں گے ۔ لیکن اس کامیابی کو خاک میں ملانے کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں چند ایک بھارتی یوٹیوبر کو جاتا ہے جن کے ضمیر زندہ ہیں ۔

ورنہ تو گذشتہ الیکشن میں اگر مود ی دو تہائی اکثریت حاصل کر لیتا تو وہاں جمہوریت کے پردے میں مودی آمریت کا راج ہوتا ۔ مودی آمریت تو آج بھی اس انتہاء کی ہے کہ وہاں بھارتی سپریم کورٹ ہو یا دوسرے عدالتی نظام وغیرہ سب اپنی جان کے خوف سے سہمے ہوئے ہیں ۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کو بی جے پی کے دہشت گردوں نے مسلمان ہونے کے ناطے اپنے نشانے پر لے لیا ہے ۔ اور تو اور بھارتی خارجہ سیکریٹری کو پاکستان کے ساتھ جنگ بند کرنے کا اعلان کرنے پر ان کو اور اُن کی فیملی کو جان کے خطرات لاحق ہو گئے ہیں حالانکہ وہ ہندو ہیں ۔

بی جے پی کے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر مودی نے بھارت کے سیکولر آئین میں ایسی ترمیم کرنا تھی کہ بھارتی مسلمان اور عیسائی شودر کی سطح پر گر جاتے۔ ان کے پاس اپنی بقاء کے لیے دو ہی راستے رہ جاتے یا تو وہ اپنا مذہب بدل کر دوبارہ سے ہندو بن جائیں یا پھر بھارت چھوڑ دیں ۔

کیونکہ بی جے پی کے دہشت گرد مذہبی جنونیوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں آج کے کروڑوں مسلمان تاریخی جبر کے تحت مسلمان ہوئے ۔ کیونکہ اس وقت کے مسلمان حکمرانوں کا مذہب اسلام قبول کرنے کے پیچھے خوف ، لالچ اور بے بسی تھی۔

2014میں جب سے مودی برسر اقتدار آیا ہے اس نے ہندو مذہبی جنونیت کو ایک ہتھیار کے طور پر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا ہے ۔ گھر کے باہر تو بھارتی مسلمان غیر محفوظ ہیں ہی ، گھر کے اندر تک بھی محفوظ نہیں ۔ نہ اُن کی عزتیں ، جان ومال ، زندگی مذہب کچھ بھی محفوظ نہیں ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کے خلاف ہندو مذہبی جنونیت کا ہتھیار استعمال کر کے ہی مودی گزشتہ دو الیکشن میں مسلسل کامیاب ہوا۔ مودی بوچر آف گجرات پھر بہار الیکشن میں بینفشری آف پہلگام بننا چاہتا تھا۔

پاکستان بھارت تعلقات کا مستقبل کیا ہو گا؟24,23,22,21,19 مئی کو پتہ چلے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ بھارت

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا