تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی حالیہ محاذ آرائی نے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی فوری ضرورت کی یاد دلا دی ہے جو دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اہم فلیش پوائنٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سینئر سفارت کار سردار مسعود خان نے یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں پیش کرنے کیلئے اپنی کوششوں میں تیزی لائیں۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود احمد خان نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد کے زیراہتمام ڈائاسپورا کمیونٹی کے نمائندوں کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی حالیہ محاذ آرائی نے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی فوری ضرورت کی یاد دلا دی ہے جو دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اہم فلیش پوائنٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے تارکین وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ایک اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کشمیریوں کی کوششوں کی وجہ سے یورپی پارلیمنٹ نے 2020ء میں کشمیر میں انسانی حقوق کی حمایت میں دو قراردادیں پاس کیں۔ سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تصادم کے بعد اب ہمارے پاس ایک اور موقع ہے کہ ہم تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کی حمایت حاصل کریں جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم سبب ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے درمیان کشمیر کے ایک اہم کہا کہ

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار