مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے تارکین وطن کشمیریوں کا ایک اہم کردار ہے، مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی حالیہ محاذ آرائی نے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی فوری ضرورت کی یاد دلا دی ہے جو دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اہم فلیش پوائنٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سینئر سفارت کار سردار مسعود خان نے یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں پیش کرنے کیلئے اپنی کوششوں میں تیزی لائیں۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود احمد خان نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد کے زیراہتمام ڈائاسپورا کمیونٹی کے نمائندوں کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی حالیہ محاذ آرائی نے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی فوری ضرورت کی یاد دلا دی ہے جو دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اہم فلیش پوائنٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے تارکین وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ایک اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کشمیریوں کی کوششوں کی وجہ سے یورپی پارلیمنٹ نے 2020ء میں کشمیر میں انسانی حقوق کی حمایت میں دو قراردادیں پاس کیں۔ سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تصادم کے بعد اب ہمارے پاس ایک اور موقع ہے کہ ہم تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کی حمایت حاصل کریں جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم سبب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے درمیان کشمیر کے ایک اہم کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔