Express News:
2026-07-24@04:47:45 GMT

ٹرمپ کی عشائیہ ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، تناؤ، کشمکش، سرحدی چھیڑ چھاڑ اور باقاعدہ جنگوں کی ایک طویل تاریخ ہے، ہر دو ممالک کے حکمرانوں کے درمیان تنازعہ کشمیر سمیت مختلف مسائل پر مذاکرات بھی ہوئے، رابطے ٹوٹتے بھی رہے، بات چیت میں تعطل بھی آتا رہا، اسی باعث دونوں ممالک کے درمیان آج تک خوش گوار تعلقات کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر آپ ماضی کی تاریخ دیکھیں تو کشیدگی میں اضافے کا آغاز ہمیشہ بھارت کی جانب سے ہوتا رہا ہے۔ مختلف بہانوں، بے بنیاد الزامات اور من گھڑت جھوٹے واقعات کو جواز بنا کر بھارت پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرتا رہا ہے۔

1987 میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سرحد پر فوجیں جمع کرکے پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ قومی اور عالمی میڈیا میں پاک بھارت کشیدگی کی خبروں سے ایک ہلچل مچ گئی۔ ممتاز امریکی سفارت کار ڈینس کے مطابق امکانی جنگ کی اطلاعات کے بعد امریکا اور سوویت روس کے درمیان رابطے ہوئے اور طے پایا کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن پاکستان اور بھارت کی قیادت سے رابطہ کرکے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔

صدر ریگن نے راجیو گاندھی اور جنرل ضیا الحق پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ کشیدگی کا خاتمہ کریں۔ ایک ملکی فوجی ماہر نے مضمون میں لکھا کہ انڈین فوج کے سربراہ مہندر جی یہ خواب دیکھتے تھے کہ وہ کسی ماہر شمشیر زن کی طرح اپنا ماسٹر اسٹروک کھیلیں گے اور پاکستان کو دو حصوں میں کاٹ کر رکھ دیں گے مگر انڈیا کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ پنجاب پر حملہ کرکے اسے سندھ سے کاٹ دیا جائے تاکہ پاکستان کو اس کے ایٹمی قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔

ایک ایسے وقت میں جب انڈیا اور پاکستان کی فوجیں سرحدوں پر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں اور جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو جنرل ضیا الحق اپنے وفد کے ہمراہ کرکٹ میچ دیکھنے انڈیا پہنچ گئے۔ مبصرین حیران ہو گئے، جنرل ضیا نے اپنے اس دورے کو ’’کرکٹ برائے امن‘‘ کا نام دیا جب کہ عالمی میڈیا نے اسے ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے بھارتی وزیر اعظم راجیوگاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہو، ٹھیک ہے کرو، لیکن یاد رکھنا کہ اس حملے کے بعد دنیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھول جائے گی، صرف ضیا الحق اور راجیو گاندھی کو یاد رکھے گی کیوں کہ یہ جنگ روایتی نہیں ایٹمی ہوگی، ہو سکتا ہے اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان ختم ہو جائے لیکن مسلمان دنیا میں موجود رہیں گے کیوں کہ دنیا میں مسلمانوں کے بہت سے ملک ہیں۔

رہ گئے ہندو تو یاد رکھنا کہ اس تباہی یعنی ایٹمی جنگ کے نتیجے میں ہندوستان مٹ گیا تو پوری دنیا سے ہندوؤں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ جنرل ضیا نے آخری بات یہ کہی کہ اگر تم نے میری واپسی سے قبل اپنی فوج کو واپسی کا حکم نہ دیا تو پاکستان پہنچتے ہی میرے منہ سے ایک ہی لفظ نکلے گا ’’فائر۔‘‘ مبصرین کے بقول جنرل ضیا کے دورے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی، دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا اور پاکستان و انڈیا کی فوجیں کشیدگی سے پہلے والی پوزیشن پر چلی گئیں۔

جنرل ضیا کی ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ تو نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ دیکھنے، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 7 تا 10 مئی کے دوران لڑی گئی مختصر جنگ جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ذاتی کوششوں سے رکوائی جس کا وہ مختلف مواقعوں پر بار بار خود ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں، اپنے حالیہ دورہ عرب میں بھی انھوں نے برملا یہ کہا کہ امریکا نے مصالحتی کردار ادا کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کرا دی اور اسی مقصد کے لیے میں نے تجارت کو استعمال کیا۔

بقول ٹرمپ میں نے کہا کہ ’’دوستو! آؤ ایک معاہدہ کرتے ہیں، کچھ تجارت کرتے ہیں، جوہری میزائل کی نہیں بلکہ ان چیزوں کی جو آپ بڑے خوب صورت انداز میں بناتے ہو۔‘‘ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان اور بھارت کی قیادت کو عشائیے پر اکٹھا کر لیں گے۔ صدر ٹرمپ اپنی ’’عشائیہ ڈپلومیسی‘‘ کے ذریعے پاک بھارت کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کشمیر، سندھ طاس معاہدہ اور دیگر حل طلب مسائل کا ہر دو فریق کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے میں کوئی کلیدی کردار ادا کر سکیں گے؟ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں کیوں بظاہر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن زبان بندی نہیں ہوئی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر ان کے وزرا تک اور انڈین میڈیا سے لے کر متعصب تجزیہ نگاروں تک بیانات دیکھ لیں تو آگ اگلتے نظر آتے ہیں جو بھارت کے مذموم، مکروہ اور ناپاک و خطرناک ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مودی کی درخواست پر امریکا نے جو جنگ بندی کرائی ہے وہ عارضی ہے۔ بھارت مہلت حاصل کرکے پاکستان کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ 10 مئی کو اپنی شکست و تباہی کا بدلہ لے سکے۔ بھارتی لیڈروں اور انتہا پسند میڈیا نے جارحانہ اور جنونی بیانات اور دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم، سپہ سالار، وزرا اور ہمارے میڈیا نے نہایت ذمے دارانہ طرز عمل اختیار کیا اور بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور پاکستان کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے جنگ جیت لی ہے فتح کے بعد اللہ نے پاکستان کو وہ مقام عطا کیا ہے کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔

وزیر اعظم نے صاف لفظوں میں پیغام دیا کہ آئیں مذاکرات کریں، ہم امن کے لیے کشمیر سمیت تمام مذاکرات کا حل چاہتے ہیں۔ آرمی چیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پوری قوم نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ہمارے میڈیا کا کردار ذمے دارانہ رہا، ہم نے کچھ نہیں چھپایا۔ سب حقیقت بتائی، بھارتی میڈیا کو ایسا جواب دیا جو اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔ ایسی نازک صورت حال میں کہ جب بھارت جارحیت کے لیے دوبارہ پَر تول رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی عشائیہ ڈپلومیسی کامیاب ہوگی یا نہیں، اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان اور بھارت اور پاکستان پاکستان کے پاکستان کو ضیا الحق جنرل ضیا کے لیے رہا ہے تھا کہ کے بعد

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا