Express News:
2026-06-03@03:18:40 GMT

ٹرمپ کی عشائیہ ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، تناؤ، کشمکش، سرحدی چھیڑ چھاڑ اور باقاعدہ جنگوں کی ایک طویل تاریخ ہے، ہر دو ممالک کے حکمرانوں کے درمیان تنازعہ کشمیر سمیت مختلف مسائل پر مذاکرات بھی ہوئے، رابطے ٹوٹتے بھی رہے، بات چیت میں تعطل بھی آتا رہا، اسی باعث دونوں ممالک کے درمیان آج تک خوش گوار تعلقات کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر آپ ماضی کی تاریخ دیکھیں تو کشیدگی میں اضافے کا آغاز ہمیشہ بھارت کی جانب سے ہوتا رہا ہے۔ مختلف بہانوں، بے بنیاد الزامات اور من گھڑت جھوٹے واقعات کو جواز بنا کر بھارت پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرتا رہا ہے۔

1987 میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سرحد پر فوجیں جمع کرکے پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ قومی اور عالمی میڈیا میں پاک بھارت کشیدگی کی خبروں سے ایک ہلچل مچ گئی۔ ممتاز امریکی سفارت کار ڈینس کے مطابق امکانی جنگ کی اطلاعات کے بعد امریکا اور سوویت روس کے درمیان رابطے ہوئے اور طے پایا کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن پاکستان اور بھارت کی قیادت سے رابطہ کرکے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔

صدر ریگن نے راجیو گاندھی اور جنرل ضیا الحق پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ کشیدگی کا خاتمہ کریں۔ ایک ملکی فوجی ماہر نے مضمون میں لکھا کہ انڈین فوج کے سربراہ مہندر جی یہ خواب دیکھتے تھے کہ وہ کسی ماہر شمشیر زن کی طرح اپنا ماسٹر اسٹروک کھیلیں گے اور پاکستان کو دو حصوں میں کاٹ کر رکھ دیں گے مگر انڈیا کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ پنجاب پر حملہ کرکے اسے سندھ سے کاٹ دیا جائے تاکہ پاکستان کو اس کے ایٹمی قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔

ایک ایسے وقت میں جب انڈیا اور پاکستان کی فوجیں سرحدوں پر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں اور جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو جنرل ضیا الحق اپنے وفد کے ہمراہ کرکٹ میچ دیکھنے انڈیا پہنچ گئے۔ مبصرین حیران ہو گئے، جنرل ضیا نے اپنے اس دورے کو ’’کرکٹ برائے امن‘‘ کا نام دیا جب کہ عالمی میڈیا نے اسے ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے بھارتی وزیر اعظم راجیوگاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہو، ٹھیک ہے کرو، لیکن یاد رکھنا کہ اس حملے کے بعد دنیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھول جائے گی، صرف ضیا الحق اور راجیو گاندھی کو یاد رکھے گی کیوں کہ یہ جنگ روایتی نہیں ایٹمی ہوگی، ہو سکتا ہے اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان ختم ہو جائے لیکن مسلمان دنیا میں موجود رہیں گے کیوں کہ دنیا میں مسلمانوں کے بہت سے ملک ہیں۔

رہ گئے ہندو تو یاد رکھنا کہ اس تباہی یعنی ایٹمی جنگ کے نتیجے میں ہندوستان مٹ گیا تو پوری دنیا سے ہندوؤں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ جنرل ضیا نے آخری بات یہ کہی کہ اگر تم نے میری واپسی سے قبل اپنی فوج کو واپسی کا حکم نہ دیا تو پاکستان پہنچتے ہی میرے منہ سے ایک ہی لفظ نکلے گا ’’فائر۔‘‘ مبصرین کے بقول جنرل ضیا کے دورے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی، دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا اور پاکستان و انڈیا کی فوجیں کشیدگی سے پہلے والی پوزیشن پر چلی گئیں۔

جنرل ضیا کی ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ تو نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ دیکھنے، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 7 تا 10 مئی کے دوران لڑی گئی مختصر جنگ جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ذاتی کوششوں سے رکوائی جس کا وہ مختلف مواقعوں پر بار بار خود ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں، اپنے حالیہ دورہ عرب میں بھی انھوں نے برملا یہ کہا کہ امریکا نے مصالحتی کردار ادا کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کرا دی اور اسی مقصد کے لیے میں نے تجارت کو استعمال کیا۔

بقول ٹرمپ میں نے کہا کہ ’’دوستو! آؤ ایک معاہدہ کرتے ہیں، کچھ تجارت کرتے ہیں، جوہری میزائل کی نہیں بلکہ ان چیزوں کی جو آپ بڑے خوب صورت انداز میں بناتے ہو۔‘‘ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان اور بھارت کی قیادت کو عشائیے پر اکٹھا کر لیں گے۔ صدر ٹرمپ اپنی ’’عشائیہ ڈپلومیسی‘‘ کے ذریعے پاک بھارت کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کشمیر، سندھ طاس معاہدہ اور دیگر حل طلب مسائل کا ہر دو فریق کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے میں کوئی کلیدی کردار ادا کر سکیں گے؟ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں کیوں بظاہر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن زبان بندی نہیں ہوئی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر ان کے وزرا تک اور انڈین میڈیا سے لے کر متعصب تجزیہ نگاروں تک بیانات دیکھ لیں تو آگ اگلتے نظر آتے ہیں جو بھارت کے مذموم، مکروہ اور ناپاک و خطرناک ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مودی کی درخواست پر امریکا نے جو جنگ بندی کرائی ہے وہ عارضی ہے۔ بھارت مہلت حاصل کرکے پاکستان کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ 10 مئی کو اپنی شکست و تباہی کا بدلہ لے سکے۔ بھارتی لیڈروں اور انتہا پسند میڈیا نے جارحانہ اور جنونی بیانات اور دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم، سپہ سالار، وزرا اور ہمارے میڈیا نے نہایت ذمے دارانہ طرز عمل اختیار کیا اور بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور پاکستان کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے جنگ جیت لی ہے فتح کے بعد اللہ نے پاکستان کو وہ مقام عطا کیا ہے کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔

وزیر اعظم نے صاف لفظوں میں پیغام دیا کہ آئیں مذاکرات کریں، ہم امن کے لیے کشمیر سمیت تمام مذاکرات کا حل چاہتے ہیں۔ آرمی چیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پوری قوم نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ہمارے میڈیا کا کردار ذمے دارانہ رہا، ہم نے کچھ نہیں چھپایا۔ سب حقیقت بتائی، بھارتی میڈیا کو ایسا جواب دیا جو اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔ ایسی نازک صورت حال میں کہ جب بھارت جارحیت کے لیے دوبارہ پَر تول رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی عشائیہ ڈپلومیسی کامیاب ہوگی یا نہیں، اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان اور بھارت اور پاکستان پاکستان کے پاکستان کو ضیا الحق جنرل ضیا کے لیے رہا ہے تھا کہ کے بعد

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی