انوکھا ریسکیو آپریشن، خواتین نے کندھوں پر اٹھا کر زخمیوں کی جان بچائی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
آزاد کشمیر کے ضلع حویلی فارورڈ کہوٹہ کی خاموش وادیوں میں گذشتہ اتوار کی سہ پہر ایک گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔
یہ دُور افتادہ علاقہ نیلفری چراگاہ کہلاتا ہے جہاں محکمہ جنگلات کی ایک گاڑی اچانک بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ گاڑی میں سوار دو افراد، فاریسٹ آفیسر اور ڈرائیور طاہر راٹھور شدید زخمی ہوگئے۔
وہاں اِردگرد 9 خواتین اور ایک کم سن بچی کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔ اس وقت ان خواتین نے زخمیوں کو کندھوں پر لاد کر چار کلومیٹر پیدل سفر کر کے ریسکیو کیا۔
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں نیلفری چراگاہ جیسے کئی علاقے ہیں جہاں مقامی افراد اپنے مال مویشی لے کر جاتے ہیں۔ اس روز وہاں صرف خواتین اور کم سن بچے موجود تھے۔
ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) حویلی اعجاز قمر میر نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ گاڑی محکمہ جنگلات کی تھی اور سرکاری رقبے کے معائنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔‘
’گاڑی میں ڈرائیور طاہر راٹھور اور فاریسٹ آفیسر کے علاوہ دیگر پانچ اہلکار بھی سوار تھے جو بعد میں گاڑی سے اُتر کر پیدل دوسری سائٹ کا معائنہ کرنے چلے گئے تھے۔‘
ان کے مطابق ’اس وزٹ کے لیے مظفرآباد ہیڈ آفس سے باقاعدہ منظوری لی گئی تھی اور محکمے نے معائنے کے لیے فور بائی فور گاڑی فراہم کی تھی۔‘
’یہ تمام اہلکار ایک سائٹ کا وزٹ کر کے واپس آرہے تھے۔ ڈرائیور اور ایک فارسٹ آفیسر کو دیگر اہلکاروں نے گاڑی میں واپس بھیج دیا اور خود دوسری سائٹ پر روانہ ہوگئے کیونکہ انہوں نے وہاں رات قیام بھی کرنا تھا۔‘
بقول اعجاز قمر میر کا کہنا ہے کہ ’ان علاقوں میں سڑکیں خستہ حال ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل سفر کو ترجییح دیتے ہیں یا پھر فور بائی فور گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’واپس آتے ہوئے اُترائی میں گاڑی کی بریک فیل ہوگئی جس کے باعث وہ تیزی سے نیچے آتی گئی اور ایک مقام پر ٹکرانے کے بعد کھائی میں جا گری۔‘
جب گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو وہاں کچھ فاصلے پر چند بچے کھیل رہے تھے جبکہ خواتین اپنے مویشیوں کو چارہ ڈال رہی تھیں۔
چوہدری محمد طارق کی خالہ بھی وہاں موجود تھیں۔ حادثے کے وقت وہاں سرور جان، نذیرہ بیگم، نسیم، شازیہ بانو، سبرینہ بانو، نسرین رحمت بیگم، فرزانہ بیگم اور نسیم اختر موجود تھیں جبکہ ایک کم سن بچی اُن کے پاس وہاں بیٹھی تھی۔
چوہدری محمد طارق بتاتے ہیں کہ ’وہاں پر کھیلتے ہوئے بچوں نے دیکھا کہ گاڑی بے قابو ہو کر تیزی سے نیچے کی طرف آکر گری ہے۔ ڈرائیور طاہر راٹھور مسلسل ہارن بجا رہے تھے تاکہ نیچے لوگوں کو معلوم ہو کہ گاڑی کی بریکس فیل ہو چکی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اسی دوران گاڑی کھائی میں جا گری اور حادثے کی آواز سنتے ہی خواتین جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ میری خالہ نے گھر سے چارپائی اٹھائی، اس پر بستر اور تکیہ رکھا اور پتے ڈال کر زخمیوں کے لیے ایک عارضی سٹریچر تیار کیا۔‘
’نو خواتین اور ایک کم سن بچی نے مل کر اِس ناممکن نظر آنے والے مشن کو بالآخر ممکن بنانے کا سوچا۔ جائے حادثہ پر انہوں نے دیکھا کہ گاڑی کھائی میں گرنے کے بعد 20 فٹ آگے جا چکی تھی جبکہ زخمی ڈرائیور طاہر راٹھور اور فاریسٹ آفیسر زمین پر پڑے تھے۔‘
چوہدری طارق کہتے ہیں کہ ’خواتین نے زخمیوں کو پانی پلایا اور کم سن بچی دوڑ کر مزید پانی لے آئی۔ خواتین نے طاہر کا موبائل فون نکال کر اُن کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی اور زخمیوں کو چارپائیوں پر منتقل کیا اور اپنے کندھوں پر اٹھا کر چار کلومیٹر تک پیدل چلتی رہیں۔‘
ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر اعجاز قمر میر کے مطابق ’جائے حادثہ سے قریبی شہر یا ہسپتال تک پہنچنے میں کم سے کم چار گھنٹے لگتے ہیں۔ ان خواتین نے اُنہیں قریبی علاقے تک پہنچایا جہاں مزید شہری اور اُن کے ورثا پہنچ گئے تھے۔‘
’زخمی ڈرائیور تین گھنٹے تک بات کر رہے تھے تاہم ہسپتال پہنچنے سے ایک گھنٹہ قبل چل بسے، جبکہ فارسٹ آفیسر کو بروقت ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا گیا اور اب وہ روبہ صحت ہیں۔‘
ڈی ایف او اعجاز قمر اسے ’دنیا کا سب سے انوکھا ریسکیو آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہ خواتین زندہ دِل اور بہادر ہیں۔ ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔‘
’میرا خیال ہے کہ یہ دنیا کا انوکھا ریسکیو آپریشن ہے جس میں خواتین نے زخمیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت شہر تک پہنچایا۔ یہ ایسی خواتین ہیں جو گھریلو کام کاج تو کرتی ہیں لیکن ایسے کاموں کے لیے اُن کا جذبہ کام آتا ہے۔‘
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فاریسٹ ا فیسر زخمیوں کو کھائی میں خواتین نے کم سن بچی کے مطابق اور ایک رہے تھے کے لیے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن