گالیاں دینے، گریبان پکڑنے، حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ منتخب ہو کر اسمبلی میں آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا جاتا ہے، پھر اسی حلف کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، پنجاب اسمبلی کے 26 ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کر چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ لوگوں کو گالیاں دینے، ہلڑ بازی کرنے، حملہ کرنے اور گریبان پکڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کوئی بھی سیاسی جماعت یہ کرے، میں آئین کے لئے یہ مقدمہ لڑوں گا۔ الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی اور حلف کی پاسداری کرنے کا قسم اٹھانا اور پھر اس کی خلاف ورزی کرنا کس زمرے میں آتا ہے۔؟
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ منتخب ہو کر اسمبلی میں آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا جاتا ہے، پھر اسی حلف کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، پنجاب اسمبلی کے 26 ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کر چکے ہیں۔ ملک احمد خان نے کہا کہ میں ڈیڑھ سال سے تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہوں، ہاؤس میں مس کنڈکٹ کو جرم سمجھتا ہوں اور یہ جمہوری رویوں کے خلاف ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ مجھے اپنے منصب کا حق ادا کرنا ہے، گالیاں دینا جمہوریت نہیں، یہ واحیات رویہ جمہوریت سے دشمنی ہے۔ ملک احمد خان نے کہا کہ اس وقت پارلیمان کی یہ صورتحال ہے کہ کوئی وزیر خزانہ پچھلے 15 برسوں سے بجٹ تقریر تک نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کیا عوام کا یہ حق نہیں کہ وہ جان سکیں کہ بجٹ تقریر میں کیا بولا جا رہا ہے، میں صرف آئین کی پاسداری چاہتا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملک احمد خان نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کی خلاف ورزی کی پاسداری
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔