سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے کی.
انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی پر ایف بی آر کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر جسٹس امین الدین خان نے کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان سے دریافت کیا کہ وہ 4 بی پر جواب الجواب دینا چاہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: پورے ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے ایک مخصوص علاقے میں کیوں خرچ کیا جائے، جسٹس جمال مندوخیل
مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز سمیت دیگر وکلا نے جو دلائل دیے ہیں وہ تحریری فارم میں فراہم کر دیں، وکلا کے دلائل پڑھ کر پھر کل جواب الجواب دے دوں گا۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ وہ 4 بی کے حوالے سے 3 عدالتی فیصلے اس عدالت کے علم میں لانا چاہتے ہیں، آج صبح ہی فائل ملی ہے، ان تمام فیصلوں کے مطابق کسی خاص مقصد کے لیے ایڈیشنل ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کا ایک روپیہ بھی بے گھر افراد کی بحالی پر خرچ نہیں ہوا، وکیل مخدوم علی خان کا دعویٰ
جسٹس امین الدین خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی وہ تمام معلومات تحریری صورت میں جمع کرادیں، کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان کو آئندہ جمعرات کو جواب الجواب کا آغاز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس امین الدین خان سپر ٹیکس سپریم کورٹ عامر رحمان مخدوم علی خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس امین الدین خان سپر ٹیکس سپریم کورٹ مخدوم علی خان جسٹس امین الدین خان مخدوم علی خان سپریم کورٹ سپر ٹیکس
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔