ریکارڈ کے مطابق رات 10بجے نور مقدم کا قتل ہوا، ساڑھے 11بجے مقدمہ درج ہوا، پوسٹ مارٹم کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12بج کر 10منٹ پر ہوا،وکیل سلمان صفدر کے دلائل
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق رات 10بجے واقعہ ہوا، ساڑھے 11بجے قتل کا مقدمہ درج ہوا، پوسٹ مارٹم صبح ساڑھے9بجے ہوا جس کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12بج کر 10منٹ پر ہوا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ ملزم ظاہر جعفر کی 2013سے آج تک کی میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کردی،ملزم کو قتل پر سزائے موت، ریپ پر عمر قید اوراغوا پر 10سال قید کی سزا سنائی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریپ پر عمر قید کو بڑھا کر سزائےموت کردیا،ہائیکورٹ نے کہاکہ عمر قید یعنی کم سزا کی وجوہات ٹرائل کورٹ نے نہیں بتائیں،ابتدائی ایف آئی آر صرف قتل کی تھی دیگر جرائم بعد میں شامل کئے گئے،وقوعہ کے 22دن بعد اغوا اور ریپ کی دفعات شامل کی گئیں،واقعہ کی جگہ ملزم ظاہر جعفر کا گھر تھا اس کے شواہد پیش نہیں کئے گئے۔
سپریم کورٹ ؛نورمقدم کیس کی سماعت میں دوپہر ایک بجے تک وقفہ ،عدالت کا آج ہی فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کا عندیہ
وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق رات 10بجے واقعہ ہوا، ساڑھے 11بجے قتل کا مقدمہ درج ہوا، پوسٹ مارٹم صبح ساڑھے 9بجے ہوا جس کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12بج کر 10منٹ پر ہوا، واقعہ کے ایک زخمی امجد کو پولیس نے گواہ کے بجائے ملزم بنا دیا، پولیس کا انحصار سی سی ٹی وی فوٹیج پر ہے،ملزم ظاہر جعفر کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ بھی کرایاگیا۔
دوران سماعت عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے 9مئی مقدمہ کا بھی تذکرہ ہوا، وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا ذکر کچھ دن پہلے اور کیس میں بھی آیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ فیصلہ تو آپ کے حق میں کردیاتھا،سلمان صفدر نے کہاکہ مدعی شوکت مقدم کے علاوہ تمام گواہ سرکاری تھے،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ آپ کے مطابق واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں، تمام شواہد واقعاتی ہیں۔
پاکستان سے تعلقات کے الزام میں ایک اور بھارتی شہری گرفتار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سلمان صفدر نے کہاکہ وکیل سلمان صفدر نے نور مقدم کا کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز