پنجاب اسمبلی میں وزرا ء کی غیر حاضری،سپیکر پنجاب اسمبلی کا بڑا اور اہم فیصلہ،نئی پالیسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں وزرا ء کی غیر حاضری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بڑا اور اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اب اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں وزرا کے ناموں کی فہرست شامل کی جائے گی تاکہ بزنس کے دوران متعلقہ وزیر کی حاضری اور جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔تفصیلات کے مطابق اسمبلی کے ایجنڈے میں ہر تحریک التوا ئے کار کے سامنے اس وزیر کا نام بھی درج کیا جائے گا جو اس کا جواب دینے کا ذمہ دار ہوگا۔ ایجنڈے میں تحریک التوا ئے کا نمبر، محرک کا نام اور متعلقہ وزیر کی نشاندہی واضح طور پر کی جائے گی۔اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ وزرا ء ایوان میں اپنی حاضری یقینی بنائیں اور اسمبلی کے بزنس میں بھرپور شرکت کریں۔ سپیکر کے اس فیصلے کو اسمبلی اراکین نے سراہا اور وزرا ء کے نام ایجنڈے میں شامل کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سپیکر کو خراج تحسین پیش کیا۔یہ فیصلہ اسمبلی کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور حکومتی امور کو مثر طریقے سے چلانے کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی ایجنڈے میں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔