ایم ڈبلیو ایم نے گلگت بلتستان کیلئے قومی اسمبلی میں مضبوط آواز بلند کر دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
انجینئر حمید حسین طوری نے قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کیلئے آواز اٹھائی، معدنیات اور گرین ٹوور ازم پر تحفظات کا اظہار کیا، ایف سی میں حصہ، جی بی کونسل اجلاس کا نہ بلایا جانا، سکردو میں پانی بجلی کے مسائل اور روڈز کے فنڈز بحال کرنے جیسے مطالبات پیش کیے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر انجینئر حمید حسین طوری نے قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کیلئے آواز اٹھائی، معدنیات اور گرین ٹوور ازم پر تحفظات کا اظہار کیا، ایف سی میں حصہ، جی بی کونسل اجلاس کا نہ بلایا جانا، سکردو میں پانی بجلی کے مسائل اور روڈز کے فنڈز بحال کرنے جیسے مطالبات پیش کیے۔ تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر اور رکنِ قومی اسمبلی، انجینئر حمید حسین طوری نے قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بنتے ہوئے اہم قومی مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے پوائنٹ آف آرڈر پر خطاب کرتے ہوئے سکردو میں جاری بدترین بجلی لوڈ شیڈنگ کا معاملہ اٹھایا اور وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انجینئر حمید حسین طوری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی بنیادی آئینی و سیاسی حقوق سے محروم ہیں، ایسے میں بجلی اور دیگر سہولیات سے محرومی ظلم ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی توجہ دلائی کہ گلگت بلتستان کونسل، جس کا سربراہ وزیر اعظم پاکستان ہوتا ہے، گزشتہ تین سال سے ایک بھی اجلاس نہیں بلا سکی، جو جی بی کے عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی اور مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر گلگت بلتستان کونسل کا اجلاس بلائے، بجلی بحران کا خاتمہ کرے اور علاقے کے عوام کے آئینی و سیاسی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام میں پھیلتی ہوئی بےچینی اور بداعتمادی کا خاتمہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں نے قومی اسمبلی گلگت بلتستان کے عوام
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔