اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سینیٹر مشاہد حسین سید نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشاف کیا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے مؤثر ردعمل کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اس قدر خوفزدہ ہوگئے کہ انہوں نے بھارت کے بڑے سرمایہ کار مکیش امبانی کو امریکہ بھیجا تاکہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرکے بھارتی مؤقف کے حق میں مداخلت کرا سکیں۔

سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق مودی کو یہ اندیشہ تھا کہ ٹرمپ لگاتار پاکستان کے حق میں بیانات دے رہے ہیں، اور چونکہ ٹرمپ خود ایک کاروباری پس منظر رکھتے ہیں، اس لیے مودی نے بھی ایک کاروباری شخصیت مکیش امبانی کو اس مقصد کے لیے چُنا۔ انہوں نے کہا کہ مکیش امبانی گجرات مافیا کا اہم رکن ہے، جس میں گوتم اڈانی بھی شامل ہیں — یہ دونوں بھارتی وزیراعظم کے قریبی اور چہیتے سرمایہ کار سمجھے جاتے ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین نے مزید کہا کہ گوتم اڈانی پر امریکہ میں کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج ہے۔ یہ دونوں صنعتکار نہ صرف مودی کی ہر محاذ پر حمایت کرتے ہیں بلکہ مالی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مکیش امبانی کے والد، دھیروبھائی امبانی، ایک بہتر شخصیت تھے جنہوں نے ماضی میں جنرل پرویز مشرف سے بھارت-پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر سنجیدہ گفتگو کی تھی۔ انہوں نے اس فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بھارتی قیادت نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی خارجہ امور کو کاروباری مفادات سے مشروط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ایک ناکام حکمت عملی ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر مشاہد حسین مکیش امبانی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان