سابق امریکی صدر جوبائیڈن کینسر میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
امریکا(نیوز ڈیسک)سابق امریکی صدر جوبائیڈن کینسر میں مبتلا ہوگئے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق بائیڈن آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو 82 سالہ جوبائیڈن کو پروسٹیٹ کینسر کی ایک “جارحانہ” قسم کی تشخیص ہوئی ہے جو ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔
بائیڈن آفس کے مطابق سابق صدر اور ان کے اہل خانہ معالجین کے ساتھ مل کر علاج کے آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جو بائیڈن کی صدارت کی مدت 20 جنوری کو ختم ہوئی تھی۔
صدر ٹرمپ کا بیان
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جوبائیڈن میں کینسر کی تشخیص کا سن کر میلانیا اور میں افسردہ ہیں۔
امریکی صدرٹرمپ نے جل بائیڈن اور ان کےاہل خانہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جو بائیڈن کی جلدصحت یابی کیلئے دعا کی۔
واضح رہے کہ پروسٹیٹ کینسر (Prostate Cancer) مردوں میں پایا جانے والا ایک عام کینسر ہے جو پروسٹیٹ گلینڈ میں پیدا ہوتا ہے۔
پروسٹیٹ ایک چھوٹا سا غدود (gland) ہوتا ہے جو مردوں کے تولیدی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: امریکی صدر بائیڈن کی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔