مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی پیرول پر رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس طرح پیرول پر رہائی کی کوئی مثال نہیں ملتی، اور اس بار بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پیرول پر رہائی کا کوئی جواز نہیں اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے نرمی دکھائی جانے والی باتوں میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بات چیت نہیں ہو رہی، وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے، بیرسٹر گوہر

عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پیرول کی رہائی کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے، ماضی میں کب کوئی سیاسی رہنما پیرول پر رہا ہوا ہے جو اب عمران خان کو رہا کیا جائے؟

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2019 میں جب بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا تو نواز شریف اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں تھے، مگر اس کے باوجود مسلم لیگ ن نے اجلاسوں میں شرکت کی اور کبھی اس حوالے سے نواز شریف کی رہائی کے لیے پیرول پر رہائی کی شرط نہیں رکھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نے اس وقت اپنے لیڈر کی گرفتاری کے باوجود قومی سلامتی کے اجلاسوں میں شرکت کی لیکن عمران خان بطور وزیراعظم خود نہیں آتے تھے۔

عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا تو چیئرمین موجود ہے لہٰذا عمران خان کو رہائی کی باتیں عجیب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے پہلے کبھی کہا کہ نواز شریف کو پیرول پر رہا کرو تو ہم بات چیت کریں گے، لہٰذا یہ ممکن نہیں جبکہ عمران خان کی پیرول پر رہائی اور بنی گالہ منتقلی کی باتیں کرنے والوں کو مزے لینے دیں۔

مزید پڑھیں: شہبازشریف کی پیشکش کا مثبت جواب:عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کیساتھ حکومت سے بات چیت پر آمادہ

رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف سیاسی نہیں بلکہ ٹھوس مقدمات قائم ہیں، سیاسی مقدمات وہ ہوتے ہیں جو تنخواہ نہ لینے پر بنتے ہیں یا منشیات ڈال کر قائم کیے جاتے ہیں، توشہ خانہ اور جعلی ٹرسٹ کے مقدمات سیاسی نہیں کہلاتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کی پیرول پر رہائی پیرول پر رہائی کی عرفان صدیقی مسلم لیگ ن کا کہنا کہا کہ

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان