پہلے کون پیرول پر رہا ہوا ہے جوبانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے،ن لیگ نے عمران خان کی پیرول پر رہائی کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پیرول پر رہائی کی مخالفت کردی۔
نجی ٹی وی سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کا کوئی جواز نہیں،پیرول کی رہائی کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے،پہلے کون پیرول پر رہا ہوا ہے جوبانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے۔
لیگی سینیٹر کا مزید کہناتھا کہ بھارت نے 2019میں بالاکوٹ پر حملہ تو نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے،ن لیگ نے اجلاسوں میں شرکت کیلئے نوازشریف کی پیرول پر رہائی کی شرط نہیں رکھی۔
پی ٹی آئی کا مقدمات کا سامنا کرنے والے اپنے کارکنوں کیلئے پلیڈر مقرر کرنے کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی پیرول پر رہائی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔