بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر علی امین گنڈاپور کی توہین عدالت کی درخواست پر جیل حکام سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر علی امین گنڈاپور کی توہین عدالت کی درخواست پر جیل حکام سے جواب طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کی،وکیل علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عدالت کے حکم کے باوجود ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ ہمارا آرڈر کیا تھا جس کی خلاف ورزی ہوئی؟ وکیل راجہ ظہور الحسن نے کہاکہ عدالت نے کوآرڈینیٹر کے ذریعے ملاقات کرانے کو کہا تھا، جسٹس ارباب طاہر نے کہاکہ آپ 2024کی بات کررہے ہیں اب تو 2025 ہے،آپ چاہتے ہیں ہم کو آرڈینیٹر کے خلاف کارروائی کریں اور اسے پکڑیں۔
ترکیہ نے بحیرہ اسود میں قدرتی گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرلیا
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ ریکارڈ منگوائیں گے، غلط بیانی ثابت ہوئی توآپ پر جرمانہ کریں گے،کوآرڈینیٹر کے ذریعے ملاقات کا کہا تھا، کیا اس کے بعد ملاقات نہیں ہوئی؟وکیل راجہ ظہور الحسن نے کہاکہ گزشتہ ہفتے ہم اڈیالہ جیل گئے تھے لیکن ملاقات نہیں ہو سکی ،عدالت نے کہاکہ جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی اور کہا تاریخ بعد میں دی جائے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہاکہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔