Daily Ausaf:
2026-07-24@09:00:31 GMT

معجزاتی دور اور ابدی راحت سے پہلے کا منظر

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

عظیم تغیر‘جب کام مشینوں کو سونپ دیے جائیں گے ۔ہم ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہے ہیں جو پوری انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔اور سبک رفتار ہے ۔
مصنوعی ذہانت (AI)، عمومی مصنوعی ذہانت (AGI)، اور کوانٹم ٹیکنالوجی نہ صرف ہمارے آلات کو بدل رہی ہے بلکہ انسان کی حیثیت و کردار کو بھی چیلنج اور متاثر کر رہی ہے۔ اساتذہ کی جگہ AI ٹیچرز لے رہے ہیں‘ڈاکٹرز کی جگہ خودکار تشخیص اور روبوٹ سرجن آ رہے ہیں۔انجینئرنگ، کاشتکاری، عدلیہ، تجارت، دفاتر ہر میدان روبوٹس اور الگورتھمز کے حوالے ہو رہا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی محنت کا دور اختتام پذیر ہو رہا ہے۔اب سوال یہ ہے:جب سب کام مشینیں کرنے لگیں تو انسان کیا کرے گا؟
خدائی منش راحت، سکون، اور یقین شاید یہ دور کوئی خطرہ نہیں بلکہ ایک الٰہی دعوت ہے: اور تبدیل کا آغاز اور اپنی اصل روحانی حقیقت کی طرف جہاں انسان کام کا مجرم نہیں، بلکہ رحمت کا شاہد ہے۔
ممکن ہے اللہ تعالیٰ انسانیت کو ایک ایسے زمانے کے لیے تیار کر رہا ہو جس میں وہ جنت کی جھلک دیکھ سکے جس کی پیشگوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔
حضرت عیسیٰ کا دور بغیر پولیس کے امن‘ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ قربِ قیامت میںحضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے‘ وہ دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے قریب اتریں گے ‘صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے،اور زمین پر امن و انصاف قائم ہوگا۔اس وقت مال و دولت اتنی زیادہ ہوگی کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا۔(صحیح مسلم: 2937)
اس دور میںنہ پولیس ہوگی، نہ فوج مگر عدل کامل ہوگا‘ نہ بھوک، نہ غربت مگر سب خوشحال ہوں گے‘ نہ جنگ، نہ خوف صرف امن، سکون، اور خوشی ممکن ہے کہ AIاور کوانٹم ٹیکنالوجی کو طاقت کے لیے نہیں، بلکہ خدمت، صحت، اور علم کے لیے استعمال کیا جائے‘یہ دور شاید اس بات کے لیے ہوگا کہ انسان کیا کر سکتا ہے نہیں بلکہ اللہ کیا دکھانا چاہتا ہے۔
اس دنیا میں جنت کی جھلک‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل نے تصور کیا۔(صحیح بخاری و مسلم)
لیکن اللہ چاہے تو اس دنیا میں بھی ہمیں اس کا ذائقہ چکھا دے:نہ بیماری ہوگی، نہ درد، نہ پریشانی‘نہ مساجد، نہ کلیسا کیونکہ سب اللہ کے قرب میں ہوں گے‘ نہ موت، نہ بڑھاپا سب ہمیشہ جوان ‘بعض علما ء کے مطابق جنت میں سب کی عمر 33 سال ہوگی اور ویسی ہی رہے گی۔ کوئی کمی پیشی نہیں بلکہ سدا بہار رہے گی جو حضرت عیسیٰ کی عمر تھی جب وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔
چنانچہ جنت میں نہ کوئی بوڑھا ہوگا، نہ کوئی مریض‘ صرف جوانی، راحت، اور خوشیوں کے لیے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو ان کے دل چاہیں گے،اور جسے دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی،اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔(الزخرف: 71)
ہمیں AI، AGI یا کوانٹم سے خوفزدہ کیوں نہیں ہونا چاہیے؟کسی انسان کو ان مشینوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی کوڈ، کوئی حرکت، کوئی فیصلہ اللہ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں اور تم کچھ نہیں چاہتے مگر جو اللہ چاہے۔(الانسان: 30)
اگر AI ہماری نوکریاں لے لے تو ممکن ہے اللہ محنت کو راحت سے بدلنا چاہتا ہے ‘مشقت کو فرصت سے ‘خوف کو سکون سے‘ اضطراب کو ذکر سے ‘یہ انسان کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کے اصل روحانی مقصد کی طرف واپسی ہے۔
انسان کی قدر و قیمت ‘ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے:ہر انسان اللہ کی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کی روح ہوتی ہے۔اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی(الحجر: 29)
انسان کی پہچان اس کے کام سے نہیں بلکہ اس کی موجودگی، محبت، اور شعور سے ہے۔ہمیں دوسروں کو ان کے پیشوں سے نہیں تولنا چاہیے بلکہ اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے اور ہر انسان کو بنی آدم سمجھنا چاہئے ۔
روشنی کے دور میں انسان کا کردار‘اب سوال یہ ہے:انسان کیا کرے گا؟اللہ کے نظام کو شاہد بن کر دیکھےAI کو علم، شفا، اور امن کے لیے استعمال کرے ‘ اپنے ایمان کو غیر متزلزل رکھے‘ خوشی اور خوبصورتی کو اپنائے اور سب سے بڑھ کر محبت کے ساتھ زندہ رہے ‘کیونکہ یہ وہ عمل ہے جو کبھی کوئی مشین انجام نہیں دے سکتی۔
نتیجہ: کوڈ کے دور سے خدائی سلطنت تک‘ شاید اللہ چاہتا ہے کہ AI اور کوانٹم کے ذریعے ہمیں یہ دکھائے کہ بغیر مشقت زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔شاید یہ جنت کا ٹریلر ہے اور پھر آئے گی وہ ابدی سلطنت، جہاں کبھی دکھ نہیں ہوگا لہٰذا،تبدیلی سے نہ گھبرا بلکہ اللہ کی تدبیر پر خوش ہو جا۔
بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے (الشرح: 6) میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے (الاعراف: 156) اور اسی رحمت میں ہم سب کو سکون، روشنی، اور وصالِ دائمی نصیب ہو ۔ایمان کامل ، توکل اور صبر کے ساتھ اس دور میں رہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ انسان کی اللہ کی ہے اور کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ