مسئلہ کشمیر میں امریکی دلچسپی: چند تاریخی حقائق
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب ، عاصم افتخار احمد ، نے ایک انٹرویو میں کہا ہے :’’ مسئلہ کشمیر (تازہ پاک بھارت جنگ کے بعد) پھر (عالمی سطح پر) زندہ ہو گیا ہے‘‘۔ لاریب!حالیہ 6تا 10مئی2025 کی مختصر مگرنتیجہ خیز پانچ روزہ جنگ میں واضح طور پر پانسہ پاکستان کے حق میں پلٹا رہا ۔بھارت مگر ڈھٹائی سے مان نہیں رہا ۔
’’انڈیا ٹوڈے‘‘ سے وابستہ نامور بھارتی اخبار نویس ،سرڈیسائی راجدیپ، نے صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ تازہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے بھارت کے جنگی طیارے مار گرائے ، لیکن اِن کی تعداد کتنی تھی ، یہ نہیں معلوم ۔ بھارت نے اپنی جنگی شکست کو سفارتی فتح میں بدلنے کے لیے اپنے 7سفارتی وفود( جن میں51سیاستدان شامل تھے اور اِن کی قیادت کانگریس کے ششی تھرور کررہے تھے) دُنیا بھر میں بھجوائے، بات مگر پھر بھی نہیں بنی ۔
مودی حکومت اور کئی بھارتی سیاستدان اِس بات پر نالاں اور ناراض ہیں کہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، یہ دعویٰ کیوں کرتے ہیں کہ حالیہ پاک بھارت جنگ امریکا نے رکوائی۔ اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کا دل رکھنے اور لبھانے کے لیے بھارتی نیتاؤں کا دعویٰ ہے (اور غلط دعویٰ ہے) کہ یہ پاکستانی DGMOتھے جنھوں نے بھارتی DGMOسے ، عین جنگ کے دوران، رابطہ کیا اور یوں دونوں ممالک میں ، افہام و تفہیم سے، سیز فائر ہو گیا ۔ حقائق مگر واضح ہیں کہ پاکستانی افواج کے ہاتھوں عبرتناک شکست دیکھ کر بھارت نے امریکا سے رابطہ کیا اور جنگ بندی کی درخواست کی ۔
بھارت،ایک وسیع ایجنڈے کے تحت، مگر یہ ماننے سے انکاری ہے کہ کسی تیسرے فریق نے ( موثر) بیچ بچاؤ کرتے ہُوئے پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کروائی۔ بھارتی اپوزیشن پارٹی، کانگریس، بڑھ چڑھ کر مقتدر بی جے پی کے لتّے لے رہی ہے کہ جنگ بندی کے لیے تھرڈ پارٹی ( امریکا) کا دباؤ کیوں قبول کیا ؟ مثال کے طور پر انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ، جئے رام رمیش، نے کہا :’’ بھارتی ارکانِ پارلیمنٹ کا فُل ہاؤس اجلاس ، وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر صدارت، بلانا چاہیے اور پوچھا جانا چاہیے کہ پاک بھارت جنگ بندی اور امریکی صدر (ڈونلڈ ٹرمپ)کا یہ دعویٰ کہ مَیں کشمیر پر بھی پاکستان اور بھارت کو اکٹھا کروں گا، در حقیقت بھارت اور امریکا کے درمیان کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ ‘‘ جئے رام رمیش نے مزید مطالبہ کیا:’’ ہمیں مودی حکومت اور مقتدر بی جے پی بتائے کہ آپریشن سندور کا نتیجہ کیا نکلا؟ پہلگام کے ذمے داران کی گرفتاریوں کا کیا بنا؟ اور یہ بھی بتایا جائے کہ آیا پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل رابطے بحال ہونے جا رہے ہیں؟ کیا ہم نے مسئلہ کشمیر پر تھرڈ پارٹی (امریکا) کی ثالثی قبول کر لی ہے؟‘‘۔
اصل یہ ہے کہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، نے حالیہ ایام میں مسئلہ کشمیر بارے جو موقف اختیار کیا ہے ، اِس کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف کا محل لرز کررہ گیا ہے۔ پچھلے75برسوں سے بھارتی بنیا اپنے چانکیائی ہتھکنڈوں کے تحت ، مسئلہ کشمیر پر، دُنیا کو جس طرح گمراہ کرتا چلا آ رہا ہے اور مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو جس بہیمیت سے پسِ پشت ڈالتا رہا ہے ، اب اس کی بنیادیں ہل گئی ہیں ۔
90ء کے عشرے میں جب نائب امریکی وزیر خارجہ ( برائے جنوبی و وسطی ایشیا امور) رابن رافیل نے امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہُوئے مسئلہ کشمیر پر کھل کر بیان دیا تھا ، تب بھی نئی دہلی کو اِس سے بڑی تکلیف پہنچی تھی ۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پیدا ہوتے ہی امریکا نے، اپنے تئیں، اِسے سلجھانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ، لیکن خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکا ۔ امریکا کی اِن کوششوں کا باقاعدہ آغاز 1950 سے ہوتا ہے ۔ اُن دنوں سرد جنگ ( سوویت رُوس اور امریکا کے درمیان) عروج پر تھی۔ امریکی سوچ تھی کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو راضی کر لیتا ہے تو اُسے (سوویت رُوس کے مقابل) جنوبی ایشیا میں اطمینان رہے گا ۔
اِس پس منظر میں اگر ہم نامور سابق امریکی سفارتکار ہوورڈ بی شیفر (Howard B Schaffer) کی معرکہ خیز کتاب The Limits of Influence: America,s Role in Kashmirکا مطالعہ کریں تو انکشاف ہوتا ہے کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی ہی کے زمانے سے امریکا ،اپنے مفادات کی خاطر، مسئلہ کشمیر حل کروانے کی کوششیں کرتا رہا ہے ۔
اِن کوششوں کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگر امریکا مسئلہ کشمیر حل کروا دیتا ہے تو یہ کامیابی اُسے سوویت رُوس کے مقابل فتح سے ہمکنار کرے گی۔ اِسی مقصد کے لیے ، مذکورہ کتاب کے مصنف شیفر کے بقول، امریکی صدر ( کینیڈی) نے اپنا ایک خاص نمایندہ ( W Averell Harriman) پاکستان اور بھارت بھیجا۔ کینیڈی نے اپنے اس نمایندہ خصوصی ، ہیری مین، کو بھارتی وزیر اعظم ( جواہر لعل نہرو) اور صدرِ پاکستان ( جنرل ایوب خان) کے نام الگ الگ خطوط بھی ارسال کیے ۔ اِن خطوط میں مبینہ طور پر پاکستان اور بھارتی سربراہان کو زوردار الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے، براہِ راست، مل بیٹھنے پر اصرار کیا گیا تھا ۔ شومئی قسمت سے یہ امریکی کوشش بھی ناکامی پر منتج ہُوئی ۔
امریکی مصنف (Howard B Schaffer) نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ساٹھ کے عشرے میں چین کے ہاتھوں بھارت کے شکست کھا جانے کے بعد ایک بار پھر امریکا نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو بٹھانے کی کوشش کی۔ اِس مقصد کے لیے ، بقول مصنف، 1962-63، میں پاکستانی وزیر خارجہ ( ذوالفقار علی بھٹو) اور بھارتی وزیر خارجہ ( سردار سورن سنگھ) میں جو تفصیلی ملاقاتیں ہُوئی تھیں، وہ امریکا ہی کی بدولت تھیں۔
یہ کوششیں بھی مگر بے ثمر ثابت ہُوئیں ۔ اِس ناکامی کی وجہ بھی بھارت ہی تھا ۔ شیفر لکھتا ہے کہ بھارت ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے سے انکاری تھا اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں استصوابِ رائے ( Plebiscite)سے دستکش ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اِن پے در پے ناکامیوں کے بعد مسئلہ کشمیر پر امریکی کوششیں ، رفتہ رفتہ، تقریباً ماند پڑتی چلی گئیں۔پاکستان اور بھارت میں مگر کشیدگی بھی بدستور جاری رہی ۔
لیکن ایک سُپرپاور ہونے کے ناتے امریکا جنوبی ایشیا کے دونوں ممالک کے آئے روز کے محاربے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا تھا ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ’’کارگل‘‘ کا خونی معرکہ شروع ہُوا اور اِس سے قبل کہ یہ معرکہ باقاعدہ کسی بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ، امریکا نے آگے بڑھ کر اور بیچ بچاؤ کرواتے ہُوئے دونوں ممالک میں سیز فائر کروا دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اِس کے لیے اُس وقت کے وزیر اعظم ، جناب نواز شریف ، کو واشنگٹن جا کر ذاتی حیثیت میں بھی امریکی صدر (بل کلنٹن) سے خصوصی گزارشات کرنا پڑی تھیں ۔ اور جب پاکستان کے خلافOperation Parakramکے تحت بھارت اپنی فوجیں پاکستان کی سرحدوں پر لے آیا تھا ( پاکستان پر ایک سنگین الزام عائدکرتے ہُوئے ) تو اُس وقت بھی یہ امریکا ہی تھا جس نے اپنی وزیر خارجہ (کونڈو لیزا رائس) کے توسط سے پاکستان اور امریکا کے درمیان امن قائم کروایا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ بعد ازاں پاکستانی صدر ( جنرل پرویزشرف) اور بھارتی وزیر اعظم ( اٹل بہاری واجپائی ) کے درمیان (آگرہ میں) جو مذاکرات ہُوئے ، وہ بھی امریکی درمیان داری کا نتیجہ تھے ۔ مسئلہ کشمیر کے کسی حل کے لیے یہ مذاکرات بھی ناکام رہے ۔ یہ ناکامی بھی دراصل بھارتی ڈھٹائی کا نتیجہ تھی ۔
اور صدر پرویز مشرف سے پہلے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی جب وزیر اعظم ، جناب نواز شریف، کے دَور میں لاہور آئے اور مینارِ پاکستان پر حاضری بھی دی ، تو خیال یہی تھا کہ اب پاک بھارت حالات دگرگوں نہیں رہیں گے ۔ لیکن یہ اُمید بَر نہیں آئی ۔ واجپائی اور نواز شریف ملاقات کسی تیسرے فریق کے بغیر تھی ۔ مگر اب ایک بار پھر ، تھرڈ پارٹی کی حیثیت میں ، امریکا کو پاک بھارت کشیدگی کم کروانے کے لیے قدم آگے بڑھانا پڑے ہیں ۔ اور بھارت منافقت کرتے ہُوئے اِس اقدام پر چیں بہ جبیں ہورہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ بھارتی وزیر امریکی صدر کرتے ہ وئے کے درمیان امریکا نے بھارت کے ہیں کہ رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو