اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سینٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی والے مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو کبھی جارحیت، تحریک اور گولی کا جواب گولی سے دینے کی بات کی جاتی ہے۔ پی ٹی ائی کی جانب سے کل ہونے والی پریس کانفرنس میں ان کی تمام لیڈرشپ شامل تھی لیکن مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی ٹھوس چیز سامنے نہ آ سکی۔ پی ٹی ائی کے اسیر رہنماؤں کے خط کا ذکر تو کیا گیا لیکن آئندہ کے لائحہ عمل اور پارٹی کے رد عمل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی شدید کنفیوژن کا شکار ہے، ماضی میں بھی پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹیوں میں کوئی ٹھوس چیز پیش نہیں کر سکی، نہ ہی ان کی قیادت ایک پیج پر آ سکی۔ پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی میں ہمیشہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا اور ملاقات کے بعد بھی کسی قسم کا لائحہ عمل طے کرنے میں ناکام رہے۔ المیہ یہ ہے کہ کبھی رہنمائی کیلئے ملاقات کا مطالبہ کرتے تھے کبھی کہتے تھے کہ ملاقات بند کمروں میں نہیں ہونی چاہیئے لیکن کئی ملاقاتوں کے بعد بھی پی ٹی آئی کوئی ایجنڈا مذاکراتی کمیٹی کے سامنے پیش نہ کر سکی۔ پی ٹی آئی کے کسی رہنماء کو اس بات پر بھی یقین نہیں کہ وہ جو کچھ مذاکراتی کمیٹی کے سامنے کہے گا بانی پی ٹی آئی اس سے اتفاق کرلیں گے۔
پی ٹی آئی کی ملک گیر تحریک چلانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما عرفان صدیقی نے کہا کہ احتجاج پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے پر حکومت کارروائی کرے گی۔ پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، 9 مئی میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست انتشار اور فساد کو روکنے کے لیے یقیناً اپنا رد عمل دے گی۔ اگر پی ٹی آئی والے خیبرپختونخوا سے درختوں کو آگ لگاتے ہوئے اور فائرنگ کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ پی ٹی آئی نے ایک بھی احتجاج پُرامن طریقے اور ائینی حدود کے دائرہ کار کے اندر نہیں کیا۔ پی ٹی آئی اپنی سٹریٹ پاور کھو چکی ہے، عوام نے ان کی کال پر نکلنا چھوڑ دیا ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات کو سازش سے عبارت کرنا درست نہیں۔ اگر ایک صوبے کا گورنر وزیراعظم سے ملاقات کرتا ہے تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ عدم اعتماد کی کوئی تجویز زیرِ غور ہے بھی تو کیا یہ آئینی راستہ نہیں؟ بانی پی ٹی آئی پر بھی تو عدم اعتماد کیا گیا تھا۔ یہ تمام فساد جس سے پی ٹی آئی دوچار ہے وہ عدم اعتماد کی تحریک کا آئینی طور پر سامنا نہ کرنے کی وجہ سے ہے، انہوں نے اسمبلی توڑ دی اور قاسم سوری سے رولنگ دلوا دی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں واضح اکثریت حاصل نہیں تھی، میں اس اجلاس میں موجود تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی اکثریت تو نہیں لیکن ووٹ اور نمائندوں کی تعداد ذیادہ ہے۔ ہم نے ان کی حکومت کو بننے دیا جو تب سے قائم ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی نے کہا مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات نے کہا کہ پی ٹی آئی

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال