وزیراعلیٰ پنجاب کا جدید سائنسی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جدید کلائمیٹ آبزرویٹری بنانے کی منظوری دے دی ہے، جدید سائنسی مرکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔منصوبے کیلئے بجٹ، آلات اور زمین کی فراہمی اور فزیبلٹی پلان تیار کر لیا گیا ہے، سینئر وزیرپنجاب مریم اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس میں یو ای ٹی لاہور نے کلائمیٹ آبزرویٹری کے قیام سے متعلق رپورٹ پیش کر دی۔شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے ہر شعبے کیلئے ماحولیاتی ماہرین تیار کیے جائیں گے، آبزرویٹری میں جدید خود کار کمیونی کیشن سسٹم نصب کیا جائے گا، اس سے سائنسی تحقیق کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی معلومات کے تبادلے میں مدد ملے گی۔اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی معیار کا پروفیشنل اسٹاف منتخب کیا جائے گا، جدید کلائمیٹ آبزرویٹری کے قیام کیلئے زمین کا قبضہ مل گیا ہے، جدید کلائمیٹ آبزرویٹری کی عمارت ای آئی سی ٹی میں تعمیر کی جائے گی۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ادارے کو جدید ترین مینجمنٹ ماڈل کے تحت چلایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کا پلان دیا ہے، آبزرویٹری کا قیام ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بڑا قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔