پاکستان کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے، آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج سے شروع ہورہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی خطرات سے متاثرہ ٹاپ 15 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو آئندہ مالی سال کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج سے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں، عالمی مالیاتی ادارے نے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اہداف مقرر کردیئے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی خطرات سے متاثرہ ٹاپ 15 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو آئندہ مالی سال کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے، 1.
قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5بجے ہوگا، 10 نکاتی ایجنڈا جاری
عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا قومی اہداف میں شامل ہے، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی ترقی کو محدود کیا جائے گا، پاکستان کو 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 15 فیصد کمی لانا ہوگی۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف نے گرین بجٹ ٹیگنگ اور ڈیزاسٹر رسک بجٹنگ پر زور دیا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بہت کمزور ہے، ایسے بیرونی جھٹکے ناقابل برداشت مالی اخراجات کا سبب بنتے ہیں، یہ شاکس عوامی منصوبوں اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔
اے ایس آئی کو روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات دینے کے الزام میں سنائی گئی سزاکالعدم
عالمی مالیاتی ادارے نے مزید کہا کہ پاکستان کی ماحولیاتی کمزوریاں بہت زیادہ ہیں، ماحولیاتی تبدیلی ناصرف مالیاتی بلکہ ترقیاتی سطح پر بھی سنگین خطرات پیدا کررہی ہے، پاکستان نے کثیر الجہتی و دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں کی مدد سے پیشرفت کی ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ا ئی ایم ایف کہ پاکستان پاکستان کو
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔