سعودی سفیر سے اسد قیصر کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے سعودی سفارت خانے میں ملاقات کی۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک مذہب، اخوت اور تاریخ کے لازوال رشتوں
میں بندھے ہوئے ہیں۔سابق اسپیکر نے حجاج کرام کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے بہترین انتظامات پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیز رفتار ترقی شہزادہ محمد بن سلمان کی مؤثر قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسد قیصر نے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے مثبت کردار کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام سعودی عرب سے دلی وابستگی اور گہری عقیدت رکھتے ہیں اور اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ سعودی سفیر نے پاکستان سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام اور قبائل نے جس محبت، خلوص اور عزت سے نوازا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دیکھنے کا خواہاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔