وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کوششوں سے کرم میں امن قائم ہوچکا ہے: بیرسٹرسیف
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
مشیرِ اطلاعات خیبرپختون خو ا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بنکرز اور اسلحہ تھا۔
مشیرِ اطلاعات خیبرپختون خو ا بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹل پاراچنار روڈ کی مرمت کے لیے 10 کروڑ روپےکی منظوری دے دی گئی۔
مشیرِ اطلاعات نے بتایا ہے کہ ہے کرم کے علاقے کو بنکروں اور اسلحے سے پاک کر دیا گیا ہے علاقے میں میں مجموعی طور پر 979 بنکر تباہ کیے گئے ہیں۔
مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے بجٹ سے پہلے این ایف سی اجلاس بلا کر ضم اضلاع اور نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات کے پی کو ادا کرے۔
انہوں کہا ہے کہ86 دیہات سےاسلحہ اور گولہ و بارود سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے بتایا ہے کہ علاقے میں اب ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہے، بازاروں کی تزئین و آرائش پر 30 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیےجا چکے ہیں۔
مشیرِ اطلاعات خیبرپختون خو ا نے کہا ہے کہ9.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔