خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 9 خوارج ہلاک، 2 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کر کے 9 خوارج کو ہلاک کردیا جبکہ سپاہی اور لانس نائیک نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 17 اور 18 مئی کو سیکیورٹٰ فورسز نے انٹیلی جنس اطلاع پر خیبرپختونخوا میں خوارج کے خلاف کارروائیاں کیں،
پہلی کارروائی لکی مروت میں کی گئی جس کے دوران دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ 5 خوارج ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اسی طرح بنوں میں کارروائی کے دوران دو بھارتی حمایتی یافتہ خوارج کو ہلاک کیا گیا جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی قافلے پر فائرنگ کرنے والے خوارج کو جوابی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں سپاہی فرہاد علی طوری (عمر 29 سال، سکنہ ضلع کرم)، لانس نائیک صابر آفریدی (عمر 32 سال سکنہ ضلع کوہاٹ) نے جام شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے خاتمے کیلیے مذکورہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ خوارج و دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے پرعزم ہیں۔
سیکیورٹی فورسز اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کو ختم کر کے وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم اور مضبوط کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔