UrduPoint:
2026-07-24@10:10:35 GMT

یورپی ملک مالٹا میں امید کا چراغ: خرم خان، قوم کا فخر

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

یورپی ملک مالٹا میں امید کا چراغ: خرم خان، قوم کا فخر

ویلیٹا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی 2025ء)یورپ کے ملک مالٹا میں، جہاں کوئی پاکستانی سفارتخانہ موجود نہیں، خرم خان نے پاکستانیوں کے لیے قیادت اور خدمت کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ وہ نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کے ایک متحرک لیڈر ہیں بلکہ ایک ایسا نام بن چکے ہیں جو وطن سے دور رہ کر بھی قوم کے لیے جیتا ہے۔ چاہے قانونی رہنمائی ہو، فلاحی کام ہوں یا روزگار کے مواقع، خرم خان نے ہر شعبے میں اپنی عملی قیادت سے نئی راہیں کھولی ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے قائم کردہ ریسٹورنٹس درجنوں پاکستانیوں کے لیے معاشی سہارا بنے ہوئے ہیں اور ان کی ثقافت و شناخت کا مظہر بھی۔ انہوں نے دو سو سے زائد مالٹیز شہریوں کو پاکستان کا دورہ کروایا، جس سے ایک ایسا بین الاقوامی رشتہ قائم ہوا جو پاکستان کی مثبت شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ خرم خان خاموشی سے بڑے کام کرتے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ قیادت سرحدوں سے نہیں، خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔ جب بھی پاکستان پر آزمائش آئی—چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب—انہوں نے صرف دکھ کا اظہار نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے وطن سے وفاداری کا حق ادا کیا۔ مالٹا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے وہ صرف ایک لیڈر نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے ایک خاموش ہیرو ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی