’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
آج کی تحقیقی دستاویز میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے مسئلے پرممکنہ جنگی صورتحال کاایک فکری،قانونی اورتہذیبی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں تاریخی پس منظر،سیاسی بیانات،فوجی توازن،بین الاقوامی قانون، اورعالمی اداروں کے کردارکاجائزہ لیا ہے۔ تحریر میں ادبی شائستگی،فکری گہرائی اورلسانی وقارکاخاص خیال رکھاگیاہے تاکہ یہ محض ایک رپورٹ نہ ہو بلکہ ایک فکری وعلمی شہادت بن سکے۔
برصغیرکاخطہ،جس نے کبھی دریائے سندھ کی روانی میں تمدن کی کشتیاں بہائی تھیں، آج اسی پانی کی دھارپرشمشیرآبدار تھامے کھڑا ہے۔ دریائوں کی سرزمین،جوکسی زمانے میں زندگی کی علامت تھی،اب باہمی عدم اعتماد، جغرافیائی رقابت اورسیاسی ترجیحات کے ہاتھوں جنگ کی دہلیزپرکھڑی ہے۔بھارت کے حالیہ جارحانہ بیانات اورپاکستان کاردِعمل ایک ایسے المیے کی نویددے رہے ہیں جو صرف فوجی محاذپر نہیں،بلکہ تہذیبی،ماحولیاتی اورانسانی سطح پربھی خوفناک نتائج پیداکرسکتاہے۔
انڈیااورپاکستان کے درمیان پانی کاتنازعہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے،جوبنیادی طورپر دریائے سندھ کے طاس سے منسلک ہے۔حالیہ ہفتوں میں انڈیاکے آبی وسائل کے وزیرسی آرپاٹیل کے بیان(پاکستان کوایک قطرہ پانی نہیں دیاجائے گا) اورجوابی ردعمل میں پاکستان کایہ کہناکہ پانی روکنا ’’اقدامِ جنگ‘‘ ہوگا،محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کااقرارہے۔آبی ذرائع پاکستان کی زراعت،معیشت،اورانسانی بقاسے جڑے ہیں۔ان کاروکناگویازندگی کی شہ رگ کو دبانا ہے۔(ایسااقدام جنگ کے مترادف ہوگا) نے اس مسئلے کوایک نئے تنائوکی طرف دھکیل دیاہے۔
برصغیرمیں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبوں کاخمیرہے۔سندھ،جہلم،چناب اور راوی کے کناروں پرانسانی تاریخ نے کئی تمدنوں کوجوانی بخشی۔1960ء کاسندھ طاس معاہدہ اس تاریخی حقیقت کااعتراف تھاکہ دریاکسی قوم کی جاگیرنہیں،بلکہ خداکی نعمت ہیں۔تاہم آج یہ معاہدہ بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات کی زدمیں ہے۔وزیرآبی وسائل سی آرپاٹیل کابیان کہ ’’پاکستان کوایک قطرہ بھی نہ ملے‘‘ ایک ایسا اشتعال انگیزجملہ ہے جوسیاست کوسفارت سے جداکرکے اسے خالص طاقت کے پیمانے پرلے آتا ہے۔ یہ پانی کوزندگی سے کاٹ کرہتھیارمیں تبدیل کرنے کی کوشش ہے گویانیل کوفرعون کی ملکیت قراردے دیناہے۔
پانی اب فقط زراعت کامسئلہ نہیں رہا‘یہ قومی سلامتی کا،وجودکا،اورعلاقائی سیاست میں بالادستی کامسئلہ بن چکاہے۔دریا وہ پرخروش وجود بن گئے ہیں جن کے کناروں پراب کھیتی کم اور توپوں کی گرج زیادہ سنائی دیتی ہے۔تاریخی اعتبارسے دریائے سندھ اوراس کے معاون دریائوں نے نہ صرف زراعت کوسہارادیابلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مابین قدرتی اشتراک کا کردار بھی اداکیا۔ 1960ء کاسندھ طاس معاہدہ، جو عالمی ثالثی اورعقلی سفارتکاری کاشاہکارتھا،آج شدید دبائو کی زدمیں ہے۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیرکاحالیہ بیان ایک ایساسیاسی طبلِ جنگ ہے جس نے فضاکوبارودآلودکردیاہے۔
پاکستان کی90فیصدزراعت دریائی پانی پر منحصرہے۔پانی کی کمی قحط اورمعاشی تباہی کاسبب بن سکتی ہے۔متعصب ہندوقوم پرست مودی اپنے سیاسی اقتداراوراپنی سیاسی غلطیوں کوعوام سے چھپانے کیلئے بھی دریائوں کاکنٹرول مقامی ریاستوں (جموں وکشمیر، پنجاب) میں سیاسی استحکام کیلئے اہم سمجھتاہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹاکران خطرات کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔
دریائوں کی تقسیم اوراستعمال کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے نے اخلاقی معیارات،آبی تنازعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نظریاتی فریم ورک جاری کررکھاہے جوعالمی قانون تین اہم اصولوں’’معقول ومنصفانہ استعمال‘‘،’’نقصان سے بچاؤ‘‘اور’’اطلاع اور مشاورت‘‘پراستوارہے۔یہ اصول اقوام متحدہ کے آبی کورسزسے متعلق کنونشن1997 ء میں واضح طورپربیان کئے گئے ہیں جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ اگرچہ بھارت اس معاہدے کادستخط کنندہ نہیں، لیکن یہ اصول’’عالمی عرفی قانون‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی تمام اقوام ان کے اخلاقی طور پر پابندہیں۔بھارت اگردریائو ں کابہائو روکنے یارخ موڑنے کی کوشش کرتاہے،تووہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گابلکہ اقوامِ عالم کے متفقہ قانونی اصولوں کے خلاف بھی اقدام تصورکیاجائے گا۔یہ عمل ایک ایساقانونی جرم ہوگا جو بین الاقوامی دبائواورتعزیرات کاجوازبن سکتا ہے۔
1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والاسندھ طاس معاہدہ،بین الاقوامی معاہدات میں ایک نمایاں مقام رکھتاہے۔یہ معاہدہ اس بنیاد پر قائم ہواتھاکہ تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو،اورتین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب)اکستان کودیے گئے۔ورلڈ بینک اس معاہدے کا’’ضامن‘‘ہے،اوراس کی نگرانی، شکایات کے ازالے،اورثالثی میں اس کا کردار کلیدی ہے۔انڈیاکومغربی دریائوں پر محدود استعمال (مثلاًبجلی کی پیداوار)کی اجازت ہے،لیکن پانی کوروکناممنوع ہے۔اگربھارت دریا روکنے کی کوشش کرے توپاکستان عالمی بینک میںتنازع کی درخو است دائرکرسکتاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ محض دوممالک کے درمیان نہیں رہے گا، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اوردنیاکی نظروں میں ایک قانونی مقدمہ بن جائے گا گویا سندھ طاس معاہدہ ان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں امن یافناکی لکیربن چکاہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ واضح عندیہ دیا گیا ہے کہ دریائوں کاپانی روکنااقدامِ جنگ کے مترادف ہوگا۔یہ اعلان کسی مہم جوئی کاغماز یا صرف سیاسی یاعسکری ردعمل نہیں بلکہ قومی بقاکا اعلان ہے۔پاکستان کی زراعت،صنعت اور روزمرہ زندگی ان دریاں سے منسلک ہے اور پاکستان کی زراعت کا90فیصد دارومدارانہی دریائوں پر ہے۔ان کارک جاناگویا پورے ملک کی نبض پرہاتھ رکھ کراسے دبادیناہے۔گویایہ جنگ ہتھیاروں سے پہلے پانی کے قطروں پرلڑی جارہی ہے۔جہاں بھارت ایک آبی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،وہیں پاکستان اس خواب کو اپنے وجود کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھ رہا ہے۔ اگر بھارت آبی جارحیت کو ہتھیار بنائے، تو پاکستان کیلئے خاموش رہناممکن نہ ہوگا۔ اگربھارت نے یہ’’آبی سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی، تویہ ممکن ہے کہ میدانِ جنگ زمین پرہو،لیکن اس کے شعلے فضا،معیشت اورتہذیب کوجھلسادیں۔
پاک وہندمیں تنازعات کی تاریخ کئی دہائیوں پرمحیط ہے لیکن پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد تیزی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔1965ء اور1971ء کی کشیدگی کے جواب میں جنگوں کوبھی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے لیکن2000ء کی دہائی میں پانی، کشمیر اور دہشت گردی پرجامع مذاکرات ہوئے لیکن 2019ء میں ایک اورفالس فلیگ پلوامہ آپریشن کے نتیجے میں انڈیانے پاکستان کودریاکے پانی کا’’ریاستی ہتھیار‘‘ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ بعدازاں 2021ء میں دونوں ممالک نے کشمیرمیں فائربندی پر اتفاق کیاجو چندروز قبل تک کامیابی کے ساتھ چل رہاتھا۔
(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی پاکستان کی نہیں بلکہ کی کوشش
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔