اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملک بھر میں مون سون بارشوں میں اضافے کی پیشگوئی کردی گئی، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

گلگت بلتستان میں 6 جولائی سے 10 جولائی تک بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، اسلام آباد اوربالائی علاقوں میں بھی 5 سے 10 جولائی تک بارشیں متوقع ہیں۔

بلوچستان کے متعدد علاقوں میں 6 سے 8 جولائی تک بارشوں کا امکان ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں 3 سے 6 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہیں۔

مری، گلیات، سوات، کوہستان، کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، بارشوں کے باعث درجہ حرارت میں واضح کمی کا امکان ہے جبکہ عوام، مسافروں اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کا مختلف علاقوں کیلئے مون سون بارشوں کا الرٹ جاری
دوسری جانب این ڈی ایم اے نے 2 سے 8 جولائی 2025 کے دوران مختلف علاقوں کے لیے مون سون بارشوں اورممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا۔

خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور شمال مشرقی پنجاب میں 5 سے 8 جولائی کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔

دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے سے منسلکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ تربیلا ڈیم میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پید ا ہونے کا امکان ہے۔

گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں میں گلیشائی جھیلیوں کے پھٹنے کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ سمیت نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

لاہور، سیالکوٹ اور نارووال میں شہری سیلاب جبکہ ڈی جی خان اور راجن پور کے ہل ٹورنٹس میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

لاہور، سیالکوٹ، گجرات اور نارووال کے نالوں بشمول ایک، دیگ، بیئن اور پلکھو میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے متنبہ کیا ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کے دوران کمزور تعمیرات، کچی دیواروں، بجلی کے کھمبوں اوربل بورڈز سے دور رہیں، آندھی اور طوفان کے دوران حد نگاہ بھی کم ہو سکتی ہے جو حادثات کا باعث بنتی ہے لہذا محتاط رہیں، بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے لہذا محتاط رہیں۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
مزیدپڑھیں:شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی بارے بڑی بات کہہ دی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میں پانی کے بہاؤ میں ڈی ایم اے کا امکان ہے علاقوں میں بارشوں کا جولائی تک کے دوران کے باعث

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واپڈا کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادو شمار جاری
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا