کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں احتساب عدالت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
احتساب عدالت میں کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ملوث 2 ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت جج رجب علی کے روبرو ہوئی، جس میں عدالت نے نیب کی درخواستیں منظور کرلی۔ اسلام ٹائمز۔ کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں احتساب عدالت نے ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت میں کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ملوث 2 ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت جج رجب علی کے روبرو ہوئی، جس میں عدالت نے نیب کی درخواستیں منظور کرلی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیب احکامات کی توثیق کردی۔ دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ممتاز خان اور محمد ریاض کوہستان مالیاتی اسیکنڈل میں ملوث ہیں۔ نیب خیبر پختونخوا کوہستان کی اربوں روپے مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات کررہا ہے۔
ملزمان کی 7 لگژری گاڑیاں اور اسلام آباد میں مختلف پراپرٹیز ہیں۔ ملزمان نے بے نامی داروں کے نام پر اسلام آباد میں فارم ہاؤسز، رہائشی گھر اور فلیٹس بنائے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ ڈی جی نیب نے پہلے ہی اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ڈی جی نیب کے احکامات کی توثیق کرے۔ بعد ازاں عالت نے درخواستیں منظور کرکے دونوں ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کی نیب احکامات کی توثیق کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے احتساب عدالت عدالت نے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔