کے پی، معدنیات والے کارخانوں کو فوری نوٹس جاری کرنیکی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ معدنیات والے کارخانوں کو دو سالوں سے ٹیکسز کی وصولی کا کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا۔ سیکریٹری معدنیات مطاہر ذیب نے بتایا کہ یہ محکمے کی غفلت ہیں، اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نے سیکریٹری معدنیات کو تمام کارخانوں کو فوری نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس کی صدارت کنوینر ادریس خٹک نے کی، جس میں محکمہ اطلاعات اور محکمہ معدنیات کے آڈٹ پیراز پر بحث ہوئی۔ دونوں محکموں کے اعلیٰ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ معدنیات والے کارخانوں کو دو سالوں سے ٹیکسز کی وصولی کا کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا۔ سیکریٹری معدنیات مطاہر ذیب نے بتایا کہ یہ محکمے کی غفلت ہیں، اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔
چیئرمین پی اے سی نے سیکریٹری معدنیات کو تمام کارخانوں کو فوری نوٹس جاری کرنے اور محکمے سے دو سالوں میں ٹیکس نوٹسز جاری نہ کرنے کی بھی تحقیقات کروانے کی ہدایت کر دی۔ سیکریٹری معدنیات نے فوری نوٹسز جاری اور معاملے کی تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کروا دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکریٹری معدنیات کارخانوں کو نوٹس جاری فوری نوٹس
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔