غربت کا خاتمہ دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
غربت کا خاتمہ دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 20 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے غربت میں کمی اور پائیدار ترقی سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کے فورم 2025 کو تہنیتی پیغام بھیجا۔منگل کے روز اپنے پیغام میں شی جن پھنگ نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ایک عالمی مسئلہ اور دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے۔
چین نے کٹھن کوششوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے لئے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے میں غربت میں کمی کا ہدف مقررہ وقت سے 10 سال پہلے حاصل کر لیا ہے اور چینی خصوصیات کےحامل تخفیف غربت پروگرام پر گامزن ہو کر انسانی تاریخ میں اس حوالے سے ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ غربت میں کمی کا مسئلہ، آخرکار ترقی سے وابستہ ہے ۔
اپنے پیغام میں شی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، شنگھائی تعاون تنظیم نے غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقیاتی تعاون کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں.
شنگھائی تعاون تنظیم کے موجودہ صدر کے طور پر چین، تمام فریقوں کے ساتھ پالیسی کمیونیکیشن کو مضبوط بنانے، غربت میں کمی کے تجربے کا اشتراک کرنے اور عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ مزید ممالک کو اپنے اپنے قومی حالات کے مطابق غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کا راستہ تلاش کرنے میں مدد ملے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی الزام مسترد کرتے ہیں: دفتر خارجہ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا حکومت سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر نظر ثانی کا مطالبہ حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی عوام پر آئندہ مالی سال میں 194 ارب روپے کی اضافی پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالنے کی تیاری پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے عام تعطیل کا اعلان کردیا چین کی قدیم ریشمی کتاب کی امریکہ سے واپسی اہمیت کی حامل ہے، چینی وزارت خارجہ امریکہ نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ کے لئے ریاستی طاقت استعمال کرتے ہوئے متعدد بل منظور کیے ، چینی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔