لینڈ ریفارمز کے نام پر گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں سے محروم کر دیا گیا، الیاس صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ یہاں نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں نے سب سے زیادہ سہولت کاری کی ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کرتے وقت بھی سہولت کاروں کے ذریعے اس کے فضائل بیان کروائے گئے تھے۔ اس وقت لینڈ ریفارمز کے نام پر عوام کو زمینوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سینیئر رہنما و سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی زمینوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں دوسری مرتبہ بہت بڑا ڈاکہ عوام کی زمینوں پر ڈالا گیا ہے۔ پہلا ڈاکہ یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کر کے کیا گیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ یہاں نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں نے سب سے زیادہ سہولت کاری کی ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کرتے وقت بھی سہولت کاروں کے ذریعے اس کے فضائل بیان کروائے گئے تھے۔ اس وقت لینڈ ریفارمز کے نام پر عوام کو زمینوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زمینوں سے محروم کر دیا گیا لینڈ ریفارمز کے الیاس صدیقی عوام کو گیا ہے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔