​​​​​​​سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر ایک دل دہلا دینے والا واقعہ شیئر کیا، جس میں ڈاکٹر وکٹوریا نے بتایا کہ دو روز قبل ایک 4 سالہ بچے کو کھو دیا، جو شدید انفیکشن کا شکار ہو گیا تھا، “اگر یہ واقعہ برطانیہ میں پیش آتا تو بچہ آج زندہ ہوتا۔  اسلام ٹائمز۔ جنگ زدہ فلسطینی علاقے غزہ میں خدمات انجام دینے والی برطانوی سرجن ڈاکٹر وکٹوریا روز نے موجودہ انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان بچوں کو کھو رہے ہیں جنہیں بچایا جا سکتا ہے، لیکن طبی سہولیات کی عدم دستیابی ان کی زندگی چھین رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غذائی امداد  سمندر میں ایک قطرے کے مترادف ہے، صرف 9 ٹرکوں پر مشتمل امداد ناکافی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے وہ بچے مر رہے ہیں جو معمولی طبی امداد سے بچ سکتے تھے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک دل دہلا دینے والا واقعہ شیئر کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل ایک 4 سالہ بچے کو کھو دیا، جو شدید انفیکشن کا شکار ہو گیا تھا، اگر یہ واقعہ برطانیہ میں پیش آتا تو بچہ آج زندہ ہوتا۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ   وہاں میرے پاس بنیادی ٹیسٹ، جیسے مکمل خون کا تجزیہ (Full Blood Count) اور گردوں کی کارکردگی کا ٹیسٹ (Renal Function)، کی سہولت ہوتی۔ لیکن یہاں غزہ میں میرے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ناصر اسپتال میں بلڈ بینک مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور ڈاکٹروں کے پاس علاج کے لیے نا تو سازوسامان موجود ہے اور نا ہی بنیادی ادویات یا لیب ٹیسٹس کی سہولیات دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر وکٹوریا روز نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب وہ بیماری اور انفیکشنز ہیں جن کا علاج ممکن ہے، لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں، ہمیں فوری طور پر امداد درکار ہے، قطع نظر اس کے کہ غزہ میں سیاسی طور پر کیا ہو رہا ہے، یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ ان لوگوں کو خوراک اور طبی امداد ملنی چاہیے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ