چین سالمیت کے تحفظ میں پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
چین سالمیت کے تحفظ میں پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ بدھ کے روز وانگ ای نے کہا کہ بطور مضبوط دوست چین ہمیشہ کی طرح اپنی قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے، انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور چین پاک ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرتا رہے گا ۔
انہو ں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ساتھ مل کر چین پاک اقتصادی راہداری کو آگے بڑھانا ہے اور صنعت، زراعت ، توانائی اور کان کنی ، انسانی قوتوں کی ترقی،انسداد ہشت گردی اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ بھائی چارے اور دوستی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک چین کے اصول پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ جامع تعاون کو مضبوط بنانے کی توقع رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ موجودہ مشکلات کو دور کرنے اور ملک میں ترقی، سلامتی اور استحکام کو آگے بڑھانے میں اسے چین کی حمایت حاصل رہے گی ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چینی افراد ، پراجیکٹ اور اداروں کی سلامتی کے دفاع کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔پاکستانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان فائر بندی معاہدے کے بعد تازہ ترین صورتحال اور پاکستان کی سوچ سے وانگ ای کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مصفانہ رویے سے فائر بندی اور امن کے قیام کے لیے چین کی کوششوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھر پور کوشش جاری رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ بات چیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تا کہ صورتحال کو معمول پر واپس لایا جائے۔
وانگ ای نے کہا کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کر کے جامع اور طویل مدتی فائر بندی اور حتمی حل کی تلاش کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں فریقوں کے بنیادی اور طویل المدتی مفادات کے مطابق ہے ، علاقائی امن و استحکام کے لیے فائدہ مند ہے اور عالمی برادری کی عام توقعات کے مطابق ہے۔اسی روز وانگ ای نے انڈونیشیا کے قومی اقتصادی کمیشن کے چیئرمین لوحوت بنسار پنڈجیٹان اور امریکہ کی ایشیا سوسائٹی کی صدر کیونگ وہا کانگ سے بھی ملاقات کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخضدار میں سکول بس کے قریب خودکش دھماکا، 2 اساتذہ اور 4 بچے جاں بحق خضدار میں سکول بس کے قریب خودکش دھماکا، 2 اساتذہ اور 4 بچے جاں بحق چین کی اعلیٰ معیار کی وسعت عالمی ترقی کا محرک ہے،پاکستانی سکالر حکومت نے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی شملہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو لائن آف کنٹرول کا وجود بھی نہیں رہے گا، وزیر دفاع وفاقی حکومت کا 28 مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بیشتر نجی کاروبار بند رہیں... چودھری شجاعت کی ہدایت پر مسلم لیگی خواتین کا شہید عثمان یوسف کو خراجِ عقیدت، اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سالمیت کے تحفظ حمایت کرتا ہے میں پاکستان پاکستان کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔