اسلام آباد:

بجٹ 2025-26 پر مشاورت کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایف ایم کو بریفنگ میں بتایا کہ رائٹ سائزنگ کا عمل دسمبر 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری اس سال مکمل ہونے کی امید ہے، قومی ایئر لائن کی نجکاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی گئیں۔

ٹیکس واجبات اور منفی ایکویٹی سے متعلق سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کر دیے گئے جبکہ یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے کی فلائٹس پر پابندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مالی مشیر ہائر کر لیا، ان میں اسلام آباد، فیصل آباد اور گجرانوالہ الیکٹرک کمپنی شامل ہے۔

تینوں تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ دوسرے مرحلے میں حیدر آباد، سکھر اور پشاور الیکٹرک کمپنی کی نجکاری ہوگی۔

نجکاری کمیشن کے مطابق نندی پور پاور پلانٹ کی نجکاری جنوری 2026 میں شیڈول ہے جبکہ نیویارک میں روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر پر کام جاری ہے۔ فرسٹ ویمن بینک اور ایچ بی ایف سی کی نجکاری میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منافع بخش سرکاری کمرشل اداروں کی نجکاری اولین ترجین ہے، سرکاری اداروں میں حکومتی اثر کم کرکے نجی سرمایہ کاری ترجیح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی نجکاری

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر