بھارت اور اسرائیلی جارحیت سے صحتِ عامہ کو خطرہ ہے، مصطفیٰ کمال کا عالمی فورم پر انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
جنیوا میں جاری ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے بھارت اور اسرائیل کی جارحیت کو عالمی صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان صحت کے عالمی ایجنڈے سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بھارتی جارحیت میں معصوم بچوں سمیت شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو ان اقدامات پر جواب دہ ٹھہرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پاکستان میں صحتِ عامہ کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ دریائے سندھ کا نظام نہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ ہے بلکہ ہماری 80 فیصد فصلوں، اسپتالوں اور صفائی کے نظام کو توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: عدلیہ مخالف بیان پر مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی
انہوں نے فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت، خصوصاً اسپتالوں اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدامات انسانی حقوق اور صحت کے بنیادی حق پر حملہ ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ سخت چیلنجز کے باوجود پاکستان نے کئی قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی اموات میں کمی، حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں اضافہ، اور متعدی امراض جیسے تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا، ڈینگی اور ہیپاٹائٹس کے خلاف مؤثر اقدامات شامل ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے پولیو کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں جلد پاکستان کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل بھارت پولیو جنیوا مصطفٰی کمال ورلڈ ہیلتھ اسمبلی وفاقی وزیر صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بھارت پولیو جنیوا مصطف ی کمال ورلڈ ہیلتھ اسمبلی وفاقی وزیر صحت کمال نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔