Islam Times:
2026-07-24@13:46:27 GMT

اسرائیل تلوار کی دھار پر

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

اسرائیل تلوار کی دھار پر

اسلام ٹائمز: عبری نیوز ویب سائٹ یدیعوت آحارنوت کے مطابق صیہونی فوج نے جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے 11.7 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی درخواست دی ہے۔ آحارنوت کے ذرائع نے فاش کیا ہے کہ صیہونی رژیم کی وزارت جنگ نے فوج کی درخواست پوری کرنے کے لیے فوری طور پر امریکہ سے مدد مانگ لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی اتحادی ممالک خاص طور پر امریکہ کی مدد اور حمایت کے بغیر غاصب صیہونی رژیم کا منحوس وجود باقی رہنا ناممکن ہے۔ صیہونی رژیم نے مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کی تعمیر نو کا بھی فیصلہ کیا ہے جنہیں ایران سے حالیہ جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا تھا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی پارکس، انٹیلی جنس مراکز اور ہیڈکوارٹرز جیسے صیہونی فوج کے حساس مراکز کی بڑی تعداد بھی ایران کے میزائل حملوں میں تباہ ہو گئی تھی۔ تحریر: علی احمدی
 
اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اپنی دیرینہ عسکری ڈاکٹرائن کی بنیاد پر، چونکہ وہ آبادی (تقریباً 1 کروڑ) اور رقبے (32 ہزار مربع کلومیٹر) کے لحاظ سے اپنے دشمن ممالک سے بہت کم ہے لہذا طویل مدت جنگوں سے شدید پرہیز کرتی ہے۔ یوں صیہونی کمانڈرز پری امپٹو اور برق آسا جنگوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن تل ابیب کا یہ فارمولہ ایران کے خلاف جنگ میں ایران کی اعلی میزائل طاقت کی بدولت پہلی بار ناکامی کا شکار ہوا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے لانگ رینج میزائلوں نے جنگ اسرائیل کے اندر تک پہنچا دی اور اس کے فوجی، اقتصادی اور دیگر انفرااسٹرکچر پر کاری ضربیں لگائیں۔ سابق صیہونی وزیر اویگڈور لیبرمین نے اعتراف کیا ہے کہ سیکورٹی شعبے میں ایران سے جنگ میں تقریباً 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ 12 روزہ جنگ کے دوران اسلحہ کے تقریباً تمام ذخیرے خالی ہو چکے ہیں۔
 
12 ارب ڈالر کا نقصان
تہران اور تل ابیب میں جنگ بندی کے بعد مغربی ایشیا کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کو جنگ کے نقصان پر اظہار خیال کا موقع مل گیا ہے۔ اس بارے میں اخبار نیو عرب میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم کو اس جنگ میں تقریباً 12 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ صیہونی رژیم جو 7 اکتوبر 2023ء کے بعد مسلسل اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف جنگوں میں مصروف ہے اس وقت شدید اقتصادی دباو کا شکار ہے۔ سیروسیاحت کی صنعت، بیرونی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل پراجیکٹس سب کے سب بند پڑے ہیں جبکہ مقبوضہ فلسطین میں ریلوے کا نظام بھی بند ہے اور مختلف شہروں کے درمیان زراعتی محصولات کا انتقال بھی متاثر ہوا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سال جنگ کے دوران غاصب صیہونی رژیم کو تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
 
شکست سے حاصل نقصان کے ازالے کی کوشش
عبری نیوز ویب سائٹ یدیعوت آحارنوت کے مطابق صیہونی فوج نے جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے 11.

7 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی درخواست دی ہے۔ آحارنوت کے ذرائع نے فاش کیا ہے کہ صیہونی رژیم کی وزارت جنگ نے فوج کی درخواست پوری کرنے کے لیے فوری طور پر امریکہ سے مدد مانگ لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی اتحادی ممالک خاص طور پر امریکہ کی مدد اور حمایت کے بغیر غاصب صیہونی رژیم کا منحوس وجود باقی رہنا ناممکن ہے۔ صیہونی رژیم نے مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کی تعمیر نو کا بھی فیصلہ کیا ہے جنہیں ایران سے حالیہ جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا تھا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی پارکس، انٹیلی جنس مراکز اور ہیڈکوارٹرز جیسے صیہونی فوج کے حساس مراکز کی بڑی تعداد بھی ایران کے میزائل حملوں میں تباہ ہو گئی تھی۔
 
ایران کی فوجی طاقت
صیہونی اخبار یدیعوت آحارنوت اہم سیکورٹی ذرائع کے بقول لکھتا ہے: "ایران میں مار گرائے جانے والے ہمارے ڈرون طیاروں سے ہونے والا نقصان سینکڑوں ملین ڈالر ہے۔" اس بارے میں ایک اور صیہونی اخبار معاریو لکھتا ہے: "جانی نقصان کے علاوہ ایرانی میزائلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور بہت سی عمارتوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا ہے جس کے باعث دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔" یہ اخبار مزید لکھتا ہے: "درست ہے کہ ایران سے جنگ صرف بارہ دن تک جاری رہی لیکن اس کے نتیجے میں جو تباہی پھیلی ہے وہ بہت ہی وسیع پیمانے پر ہے۔ 28 اسرائیلی مارے جانے کے علاوہ بہت سے مراکز اور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں جن کی تعمیر نو میں کئی سال کا وقت درکار ہو گا۔ البتہ یہ بھی اس وقت ہے جب ان کی تعمیر نو ممکن ہو۔" صیہونی چینل 13 نے بھی بڑے پیمانے پر فوجی اور اسٹریٹجک مراکز کی تباہی کا ذکر کیا ہے۔
 
لینڈنگ ممنوع
بن گورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ایران اسرائیل بارہ روزہ جنگ کے دوران حملوں کے خوف سے مکمل طور پر بند رہا ہے۔ اس ایئرپورٹ پر روزانہ 300 کے قریب پروازیں انجام پاتی ہیں اور 35 یزار مسافر سفر کرتے ہیں۔ لیکن جنگ کے دوران اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ڈرون حملوں کا خوف طاری رہا اور یہ سرگرمیاں بند ہو گئیں۔ اس وجہ سے صیہونی رژیم کو شدید اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ دوسری طرف بیرونی سرمایہ کاری میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی بنیادی شرط امن و امان اور سیاسی استحکام ہوتا ہے جس سے گذشتہ دو سالوں سے صیہونی رژیم محروم ہے۔ جنگ نے تمام اقتصادی سرگرمیاں اور کاروبار ٹھپ کر دیے ہیں اور ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بندرگاہیں بھی بند پڑی ہیں۔
 
ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی گرفتار
اسرائیل کے سیکورٹی اداروں پر فوجی دباو میں اضافے کے بعد صیہونی مخالف جاسوسی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں اسرائیلی اخبار ٹائمز لکھتا ہے: "ایک 24 سالہ اسرائیلی جوان جس کا نام روی مزراحی ہے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا ہے۔ وہ اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاتس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس پر جنگ کے دوران دشمن کی مدد کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اپریل 2025ء میں گرفتار ہوا ہے۔" عبری ذرائع ابلاغ کے بقول مزراحی نے یسرائیل کاتس کے گھر کے قریب طاقتور دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا۔ صیہونی چینل 12 نے دعوی کیا ہے: "ایران کی انٹیلی جنس ایجنسی یہ کاروائی انجام دینے ہی والی تھی۔" اخبار ٹائمز لکھتا ہے: "مزراحی کو ٹیلی گرام میسنجر کے ذریعے ایرانی انٹیلی جنس نے اپنا ایجنٹ بنایا تھا۔ مزراحی کا 24 سالہ دوست الموگ آتیاس بھی اس سے تعاون کر رہا تھا۔"

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارب ڈالر کا نقصان غاصب صیہونی رژیم طور پر امریکہ جنگ کے دوران کرنے کے لیے کی تعمیر نو انٹیلی جنس کی درخواست صیہونی فوج آحارنوت کے سے صیہونی ایران کی ایران کے ایران سے ہوا ہے کیا ہے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم