اسلام آباد:

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر خانکیندی میں 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے مابین تمام شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی گزشتہ ملاقات کے دوران کیے گئے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز جارحیت کے تناظر میں ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے صدر پیزشکیان کی قیادت کو سراہا اور حالیہ بحران کے دوران ایران کے جنگ بندی کے فیصلے کو سراہا۔

وزیراعظم نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کو دہراتے ہوئے خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

صدر پیزشکیان نے حالیہ بحران کے دوران عالمی فورمز سمیت ایران کے لیے پاکستان کی مضبوط سفارتی حمایت کو سراہا اور تنازع کو کم کرنے میں پاکستان کے اہم کردار پر شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو ایرانی سپریم لیڈر کے لیے مبارکباد اور نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے کے دوران کے لیے

پڑھیں:

امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران

ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان