شمالی وزیرستان حملہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زخمی اہلکاروں کی عیادت
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کرکے گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں خودکش حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی عیادت کی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 13 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 14 خوارج ہلاک
وزیر اعلیٰ نے اسپتال میں زیر علاج زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی فرداً فرداً عیادت اور انہیں گلدستے پیش کیے۔ انہوں نے اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔
اس موقعے پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے شہیدوں اور غازیوں نے انتہائی جوانمردی سے خودکش حملے کو ناکام بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں لازوال ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کرنے والے پاک فوج کے میجر معیز عباس جنوبی وزیرستان میں شہید
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے بلند ہیں اور اس جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔
بھرپور پیکج کا اعلانوزیر اعلیٰ نے دھماکے کے زخمیوں اور شہدا کے ورثا کو صوبائی حکومت کی طرف سے بھر پور پیکج دینے کا اعلان۔
مشیر برائے اطلاعات، چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بھی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ہمراہ تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
زخمیوں کی عیادت سی ایم ایچ پشاور سیکیورٹی اہلکار شمالی وزیرستان حملہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زخمیوں کی عیادت سی ایم ایچ پشاور سیکیورٹی اہلکار شمالی وزیرستان حملہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور علی امین گنڈاپور شمالی وزیرستان سیکیورٹی فورسز اہلکاروں کی وزیر اعلی کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔