شادی کیلئے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قانون کا خیر مقدم کرتے ہیں، آسٹریلین ہائی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز : فوٹو فائل
آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا ہے کہ شادی کیلئے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے والے قانون کا خیرمقدم کرتے ہیں، حقوقِ انسانی کے فروغ میں سرگرم افراد ہماری امید کا باعث ہیں۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا کہ یقین اور امید ہی سیاست کا اصل سرمایہ ہے، چیمپئن فار چینج اقدام کے تحت خواتین کو افرادی قوت میں لانے کیلئے سی ای اوز پارٹنرز کے جذبے کو سراہتا ہوں۔
بل کے مطابق نکاح خواں کوئی ایسا نکاح نہیں پڑھائے گا جہاں ایک یا دونوں فریق 18 سال سے کم عمر ہو، جمیعت علماء اسلام ف نے بل کی مخالفت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
نیل ہاکنز نے کہا کہ نابینا خواتین کرکٹرز کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، پاکستان کی بلائنڈ ویمن کرکٹ کے آغاز پر فخر ہے، قومی کھیل ہاکی کو زندہ رکھنے والے کھلاڑی اپنی لگن اور وسائل سے امید جگا رہے ہیں۔
آسٹریلین ہائی کمشنر نے کہا کہ ہاکی فیملی کی حوصلہ افزائی اور قیمتی مشوروں پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہائی کمشنر نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔