شادی کیلئے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قانون کا خیر مقدم کرتے ہیں، آسٹریلین ہائی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز : فوٹو فائل
آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا ہے کہ شادی کیلئے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے والے قانون کا خیرمقدم کرتے ہیں، حقوقِ انسانی کے فروغ میں سرگرم افراد ہماری امید کا باعث ہیں۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا کہ یقین اور امید ہی سیاست کا اصل سرمایہ ہے، چیمپئن فار چینج اقدام کے تحت خواتین کو افرادی قوت میں لانے کیلئے سی ای اوز پارٹنرز کے جذبے کو سراہتا ہوں۔
بل کے مطابق نکاح خواں کوئی ایسا نکاح نہیں پڑھائے گا جہاں ایک یا دونوں فریق 18 سال سے کم عمر ہو، جمیعت علماء اسلام ف نے بل کی مخالفت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
نیل ہاکنز نے کہا کہ نابینا خواتین کرکٹرز کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، پاکستان کی بلائنڈ ویمن کرکٹ کے آغاز پر فخر ہے، قومی کھیل ہاکی کو زندہ رکھنے والے کھلاڑی اپنی لگن اور وسائل سے امید جگا رہے ہیں۔
آسٹریلین ہائی کمشنر نے کہا کہ ہاکی فیملی کی حوصلہ افزائی اور قیمتی مشوروں پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہائی کمشنر نے کہا
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔